خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 35
خطبات ناصر جلد ششم ۳۵ خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۷۵ء فدائیوں پر ظاہر ہوتا ہے اور وہ جلوہ دنیا پر یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا رب ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ہے لیکن باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ہے نوع انسانی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ قہار بھی ہے۔انسان پر اس کا غضب بھی بھڑکتا ہے اگر کوئی شخص خود کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا اہل بنالے تو وہ خواہ زبان سے انکار کرے اور اس کے مطابق ہی وہ کا فرومنکر کہلائے خواہ زبان سے اقرار کرے لیکن دلی اعتقاد نہ رکھے اور دلی اعتقاد کے نتیجہ میں جو مخلصانہ اعمال سرزد ہوتے ہیں وہ اس سے سرزد نہ ہو رہے ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔اس میں بڑی سخت وارننگ اور تنبیہ ہے اُن کے لئے بھی جو منکر اور کافر ہیں اور اُن کے لئے بھی جو بظاہر خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی جماعت میں ، امت محمدیہ میں شامل ہوتے ہیں لیکن اُن کا اقرار محض زبان کا ہوتا ہے۔یہ اقرار دل اور دوسرے جوارح اور عمل کا نہیں ہوتا۔مثلاً اعتقاد جو اُن کے زبانی اقرار سے تضا درکھتا ہے یا عمل جو ہے وہ زبانی دعوی سے مختلف ہے تو زبانی دعووں سے کوئی شخص خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں کر سکتا بلکہ وہ اس زمرہ میں شامل ہو جاتا ہے جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔غرض جو لوگ کھلم کھلا انکار کرتے ہیں وہ تو واضح ہیں لیکن ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا اور اُس نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنی زندگی اُس شریعت اور ہدایت کے مطابق گزارے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی یعنی قرآن کریم کو لائحہ عمل بنائے گا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلحائے امت کے جس سلسلہ کی ہمیں اطلاع دی ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ برگزیدہ اور صالحین کے ساتھ رہو گے تو اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرو گے۔چنانچہ وہ شخص بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صالحین کے ساتھ رہے گا۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی علیہ السلام کے آنے کی پیشگوئی فرمائی اور اس کا یہ دعوی ہے کہ میں نے مہدی علیہ السلام کو پہچانا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کو سلام بھیجا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اُسے یعنی مہدی معہود کو جو سلامتی