خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 511
خطبات ناصر جلد ششم ۵۱۱ خطبہ جمعہ ۱۶ / جولائی ۱۹۷۶ء اس وقت تو جو اچھی فرسٹ ڈویژن والے ہیں ان کو سنبھالنا ضروری ہے مثلاً ایک بچہ ۷۲۵ نمبر لے کر آجاتا ہے کہ آگے نہیں پڑھ سکتا ۷۵۰ نمبر والا آ جاتا ہے کہ آگے نہیں پڑھ سکتا کیسے نہیں پڑھ سکتے ! اگر تم جماعت احمدیہ کے فرد ہو اور امام جماعت نے کہا ہے کہ تم آگے پڑھو گے تو تم کیسے نہیں پڑھ سکتے ؟ پڑھو گے! چنانچہ کئی لڑکے باہر بھی گئے خدا نے ہمیں بڑے اچھے دماغ دیئے ہیں وہ غیر ملکوں میں گئے اور اُنہوں نے بڑا Shine کیا۔ہمارا احمدی نوجوان بڑا عزت نفس والا ہے جن کو ضرورت نہیں ہوتی وہ بالکل نہیں مانگتے۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے یہاں ایک بڑا غریب لڑکا تھا۔مجھے اس بچے پر بڑا پیار آ یا۔ایک دن وہ گردن نیچی کر کے جا رہا تھا غریبانہ کپڑوں میں ملبوس اور کسی حد Under nourished تھا یعنی اس کو پوری طرح غذا نہیں مل رہی تھی میں نے اس کو دیکھا تو مجھے خیال آیا اور میں نے اس کو علیحدگی میں بلا کر کہا کہ تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتا دو۔استاد بھی باپ کی طرح ہی ہوتا ہے اس لئے شرمانے کی بات نہیں ہے۔تو وہ غریب بچہ مجھے کہنے لگا کہ مجھے تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ، رشتہ داروں کے ہاں رہتا ہوں ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہوں اور بڑے اچھے کپڑے ہیں میرے پاس ( اور اس کے کپڑے بڑے غریبانہ تھے البتہ چند ماہ تک بی۔ایس سی کا داخلہ بھیجنا ہو گا وہ میں نہیں بھیج سکتا۔شاید دوسوروپے یا کم و بیش دا خلہ تھا صحیح تو میرے علم میں نہیں ہے۔تو حالت اس کی ی تھی، اتنا غریب لڑکا تھا کہ وہ داخلہ نہیں بھیج سکتا تھا لیکن ویسے مانگنے کے لئے تیار نہیں تھا۔پس بڑے اچھے ، عزت نفس رکھنے والے ذہین بچے ہیں۔جماعت کو میں یہ کہوں گا کہ اگر کوئی ایسا بچہ چھپا ہوا ہے تو اس کو نکالو اور آگے پڑھاؤ وہ تو ہیرے ہیں ہیروں سے زیادہ ان کی قیمت ہے۔ان کو نظر انداز کرنا خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے اس نعمت پر خدا تعالیٰ کا شکر ہم اسی طرح ادا کر سکتے ہیں کہ اس بچے کو ہم کہیں کہ تجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے وہ پڑھیں اور دنیا میں ترقی کریں وہ واقفین زندگی تو نہیں ہوں گے مثلاً جو ڈاکٹر بنے گا وہ اپنے میدان میں ترقی کرے گا مختلف سائنسز ہیں کوئی نیوکلیئر فزکس میں جانے والے ہیں۔بڑے بڑے ہوشیار طالب علم ہیں۔یہ بڑا لمبا قصہ ہے اشاروں میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ لوگ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اس کی ذات بڑی رحمتیں