خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 33
خطبات ناصر جلد ششم ۳۳ خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۷۵ء جیسا کہ میں نے بتایا ہے عربی محاورہ خود لفظ کے معنی اور مفہوم کو متعین کرتا ہے۔اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اے رسول! وہ لوگ جو تکذیب نہیں کرتے بلکہ تصدیق کرتے ہیں وہ لوگ جو صدق دل سے تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیری شریعت کو حقیقتا سچی اور کامل ہدایت سمجھتے ہیں اُن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سلوک ہوتا ہے اور اُن کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ہے لیکن وہ دوسر ا گر وہ جو تکذیب کرتا ہے اور اسلام کو سچا دین نہیں سمجھتا اور چونکہ سچا نہیں سمجھتا اس لئے اس پر عمل بھی نہیں کرتا تو مکذبین کے اس گروہ کو یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ވ لا يُرَدُّ بَأْسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ کہ جو لوگ مجرم ہیں اور بدی اور بدعملی سے چھٹے ہوئے ہیں۔اُن سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹلایا نہیں جاسکتا۔انہیں خدا کا عذاب بہر حال چکھنا پڑتا ہے۔جیسا کہ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہاں مکذبین کے ساتھ مصدقین کا بھی ذکر کیا گیا ہے وہاں مجرم کا لفظ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ منکر کافر کے ساتھ مفسد منافق کا بھی ذکر ہے۔ور نہ یہ کہا جاتا کہ لَا يُرَدُّ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ مگر قرآن کریم نے ایسا نہیں کہا۔عربی زبان میں مجرم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مکر وہ اعمال بجالاتا ہے۔جو آدمی کا فرمنکر ہے اُس کے برے اعمال اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ زبان سے بھی اور اعتقاد او عملاً بھی شریعت محمدیہ پر ایمان نہیں رکھتا۔لیکن ایک گروہ وہ ہے جو قولاً یہ کہتا ہے اور جس کی زبان یہ تسلیم کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئی ہے لیکن وہ اس پر دلی اعتقاد نہیں رکھتا اس لئے وہ فسق و فجور میں مبتلا ہوتا اور شریعت کے احکام کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔پس لا يُرَدُّ بَاسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ میں وہ مکذب بھی شامل ہے جو نہ زبان سے تصدیق کرتا ہے اور نہ دل سے اس پر اعتقاد رکھتا ہے اور اس میں مکذبین کا وہ گروہ بھی شامل ہے جو زبان سے تو تصدیق کرتا ہے لیکن دل سے تکذیب کرتا ہے اور فسق و فجور میں مبتلا رہتا ہے اور یہ منافق کا کام ہے چونکہ ایک کافر کے قول اور اس کے فعل میں تضاد نہیں ہوتا۔مکذب کا فر اور منکر۔