خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 492
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۲ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء لحاظ سے ایک چھوٹا حکم ہے جسے میں نے بچوں کی عمر کے لحاظ سے ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے لیا تھا۔گو یہ چھوٹے چھوٹے حکم ہیں لیکن ہیں بنیادی احکام میں سے اور ہر حکم کی پابندی کرنا اور اس کا ماننا اور اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے تاہم کوئی حکم چھوٹا ہے اور کوئی بڑا ہے قانون اور صاحب قانون کی اطاعت کرنا چھوٹے احکام میں سے ہے گو یہ بھی ایک بنیادی حکم ہے لیکن جو بنیادی طور پر سب سے بڑا حکم ہے وہ شرک سے اجتناب ہے۔اسلام نے جس طرح شرک کو بیان کیا ہے وہ بیان اپنے اندر ایک محسن رکھتا ہے بلکہ یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سن بیان اپنے کمال پر پہنچا ہوا نظر آتا ہے۔پھر قرآن کریم کی جو تفسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تشریح کی اس کا ایک کے بعد دوسرا ورق حسن سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔توحید باری کا اقرار اور شرک سے اجتناب کی تعلیم پہلو بہ پہلو چلتی ہے۔اصل توحید باری ہے اور یہ مثبت پہلو ہے۔شرک سے اجتناب منفی پہلو ہے۔خدا تعالیٰ کو واحد ویگا نہ ماننا اور اسے تمام صفات حسنہ سے متصف تسلیم کرنا اور اس کے متعلق یہ یقین رکھنا کہ کوئی کمزوری اور عیب اور نقص اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا، تو حید حقیقی ہے اور یہ جان ہے دو چیزوں کی ایک مذہب کی جان ہے اور ایک انسان کی جان ہے۔کیونکہ اگر تو حید نہ ہو۔اگر تو حید کوسمجھا اور خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل نہ کی جائے تو پھر انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔جب یہ کہا گیاتو لاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكِ تو یہ بھی کہا گیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا موحد دنیا میں پیدا کرنا خدا کو منظور نہ ہوتا تو دنیا پیدا نہ کی جاتی۔پس تو حید حقیقی اور توحید خالص ایک طرف مذہب کی روح اور جان ہے اور دوسری طرف انسان کی روح کی روح اور اس کی جان ہے۔توحید پر قائم ہو جانا اور قائم رہنا انسانی زندگی کا اولین مقصد ہے۔ہماری سب دینی اور مذہبی جد و جہد اسی کے گرد گھومتی ہے باقی تمام فروعات ہیں۔یہی ایک نقطہ ہے جو ہماری زندگی کا بھی مرکزی نقطہ ہے اور مذہب کا بھی۔جب ہم مذہب کا نام لیتے ہیں تو اس سے ہماری مراد اسلام ہے تو حید حقیقی کا اقرار اسلام کا مرکزی نقطہ ہے۔اسلام کے اس مرکزی نقطے کے گرد ہماری زندگی کا ہرلمحہ طواف کرتا ہے۔یہی ہماری زندگی کا مرکزی نقطہ