خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 491
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۱ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء صاحب قانون ہے۔اولی الامر میں یہ دونوں باتیں آجاتی ہیں۔ایک امر یا حکم ہے جس کو ہم قانون کہتے ہیں جب وہ مدون ہو جائے۔ملکی دستور یا قانون بن جائے تو وہی امر یا حکم ہے اور ایک صاحب حکم ہے۔جہاں تک صاحب حکم کا تعلق ہے اولی الامر کی رو سے اس کا دائرہ اختیار نفاذ حکم تک محدود ہے یعنی اس نے Execute کرنا ہوتا ہے یعنی حکم کو نافذ کرنا ہوتا ہے۔پس جو شخص بھی قانون کی اطاعت کرے گا اس کو لازماً صاحب امر کی بھی اطاعت کرنی پڑے گی یہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے جس کا اثر چودہ سوسالہ اسلامی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو دنیا میں فساد پیدا ہو جائے۔اگر ایسا نہ ہو تو اسلام کی تبلیغ کے راستے میں بڑی زبر دست رکاوٹیں پیدا ہو جا ئیں۔اگر ایسا نہ ہو تو وہ کشش اور جذب جو اسلام کا خاصہ ہے اور عرب یا مصر یا شام یا ہندوستان یا پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ نوع انسانی کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے اُس کے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اس واسطے جہاں نوع انسانی کو امت واحدہ کے ایک مقام پر کھڑا کر دیا گیا وہاں جو اندرونی حقیقت تھی یعنی وطن کی محبت اس کو ایمان کا حصہ بنا دیا گیا اور اس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ اس میں دونوں باتوں کا ایک نہایت حسین اور نہایت پر لطف امتزاج ہے۔دراصل اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے انٹر نیشنلزم اور نیشنلزم یعنی بین الاقوامی تصورات اور قومی نظریوں کے اندر ایک امتزاج پیدا کر دیا ہے ان میں ایک جوڑ پیدا کر دیا ہے۔انسانی نظر اور اس کی بصیرت اسے دیکھ کر الجھتی نہیں کہ ان دونوں کا آپس میں ملاپ کیسے ہو گیا۔اس لئے جو دوست بڑی عمر کے ہیں وہ سوچیں ، ہم بھی جب بڑے ہوئے تھے تو اس مسئلے پر سوچا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمتیں بتا دیں تھیں۔پس ایک تو میں اپنے بچوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم سے جو بڑی نسلیں یکے بعد دیگرے احمدیت میں شامل ہوئیں ان کو یہ تربیت دی گئی تھی کہ قانون کی اطاعت کرنی ہے انہوں نے یہ تربیت حاصل کی تھی کہ قانون شکنی نہیں کرنی اور جو شخص صاحب قانون ہے اس کی بھی اطاعت کرنی ہے کیونکہ وہ قانون کا نفاذ کرتا ہے اور اس طرح گویا ملک ملک کا قانون ملک ملک کے شہریوں کی جان و مال، عزت و آبرو اور دوسرے حقوق کی حفاظت کے لئے کوشاں رہتا ہے۔یہ اہمیت کے