خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 481

خطبات ناصر جلد ششم ۴۸۱ خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۷۶ء ہر ملک میں ہوتی رہتی ہیں۔اسلام نے بھی اور دراصل صحیح معنی میں اسلام ہی نے فساد کے خلاف اور امن کے قیام کے لئے عظیم جہاد کیا ہے اور وہ لوگ جونرے وحشی تھے، جو کہ ابتدا میں بھی قرآن کریم کے مخاطب ہوئے اسلام نے اُن کی زندگیوں میں ایک ایسا انقلاب بپا کیا کہ وہ وحشی سے انسان پھر با اخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بن گئے اور باخدا انسان کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بہت باریکیوں میں جاتا ہے کیونکہ تقوی باریکیوں کا مطالبہ کرتا ہے چنانچہ انہوں نے باریکیوں میں جا کر اپنے ہمسایوں کا خیال رکھا اور اپنے بھائیوں کا خیال رکھا۔بعض دفعہ وہ ایسی حدود میں داخل ہو گئے کہ دوسروں نے ان کا پیار کا مظاہرہ قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔مثلاً جب مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں پہنچے تو اُن میں سے بعض اپنی بیویاں بھی پیچھے چھوڑ آئے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین وانصار کو بھائی بھائی بنادیا تو کئی انصار بھائیوں نے مہاجر بھائیوں سے کہا کہ ہماری ایک سے زائد بیویاں ہیں ہم چاہتے ہیں، ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ ہم ایک بیوی کو طلاق دے دیں اور تم اُس سے شادی کر لو۔بعض نے ورثے میں شرکت اور بعض نے مالی تحائف کے ذریعہ اپنی اس اخوت کا مظاہرہ کیا لیکن مہاجرین کی شرافت نفس اپنی جگہ تھی اور جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے انہوں نے شکریے کے ساتھ ان چیزوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔وہ آدھی آدھی دولت دینے کے لئے تیار ہو گئے تھے لیکن اُنہوں نے آگے سے جواب دیا کہ جو چیز خدا نے ہمیں دی ہے ہمیں اُس پر بھروسہ کرنے دو اور خدا کی عطا کردہ قوتوں اور استعدادوں کو استعمال کرنے دو، اللہ تعالیٰ ہمارے حالات بدل دے گا۔بعض نے صرف اتنا پیسہ قرض لے لیا کہ جس سے وہ ایک کلہاڑی خرید سکیں اور لکڑیاں کاٹ کر پیچنی شروع کر دیں۔پھر یہی لوگ تھے جن میں سے بعض کے متعلق آتا ہے کہ اُنہوں نے مدینے کی منڈی میں ایک ایک دن میں کروڑ کروڑ روپے سے بھی زیادہ سامان کی خرید وفروخت کی۔یہ تو اسلام کی خوبیوں کا بیچ میں ذکر آ گیا ہے اور آنا ہی چاہیے تھا میں بتا یہ رہا ہوں کہ انسان کے جو انسان پر حقوق ہیں ان میں سے جو شہری حقوق کہلاتے ہیں ، اُن پر اسلام نے جس طرح روشنی ڈالی ہے اور اسلام نے جس طرح اپنے ماننے والوں کے دل و دماغ