خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد ششم ۴۵۶ خطبہ جمعہ ۱۴ رمئی ۱۹۷۶ء اور نہ گنبد تھا اور نہ اس کے مینار تھے۔کھجور کے درختوں کے ستون تھے کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں کی چھت تھی جو بارش میں ٹپک پڑتی تھی لیکن اس کے باوجود اس مسجد کی جو طہارت اور نقدیس ہے اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور مسجد نہیں کر سکتی۔یہ ہے مسجد جسے اللہ تعالیٰ نے ( اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ ) ( الجن : ۱۹ ) کہا ہے کہ مساجد کی ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔انسان ان مساجد کا مالک نہیں ہوتا اور نہ ہی قرآن کریم کی رو سے کسی شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ مساجد کے دروازے موحدین یعنی خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والوں پر بند کر دے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عیسائی وفد آیا اُن کی عبادت کا جب وقت آیا تو وہ باہر جانا چاہتے تھے۔یہ عیسائیوں کے اُس فرقے کے لوگ تھے جو موحدین تھے یعنی تثلیث کے قائل نہیں تھے۔غرض آپ نے اُن سے فرما یا تمہیں باہر جانے کی کیا ضرورت ہے۔مَسْجِدِئ هذا یہ میری مسجد ہے اس میں تم اپنی عبادت کرلو چنا نچہ اُنہوں نے وہاں عبادت کی۔مسجد نبوی جو دنیا کی سب سے زیادہ مقدس اور پاک مسجد ہے اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دی اور اس اسوۂ نبوی سے یہ ثابت ہوا کہ مساجد خدا کے گھر ہیں اور خدا کے گھر توحید باری کو قائم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور مساجد کے دروازے موحدین کے لئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔پس وہ مساجد جن کے اندر خدا کے فضل سے مسجد کی روح باقی ہے اور حیات بخش ہیں روحانی طور پر ، ان مساجد کو محراب اور گنبد اور میناروں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔غرض مسجد میں عملاً مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بنیاد ہوتی ہیں اور یہی اُن کی ایک بہت بڑی غرض ہے اس لئے جہاں بھی اور جو بھی مسجدیں بنیں وہ وہی حقیقی اور سچی مساجد ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے۔لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ یا اس کے طفیل اور اس کے تابع جو دوسری مساجد ہیں جو اسی کی نہج پر بنائی جائیں اور اسی ایثار کے جذبہ کے ساتھ بنائی جائیں یعنی کچھ لوگ اپنی غربت کے باوجود خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے خدا کا گھر اس لئے تیار کر دیں تا کہ وہاں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کی جاسکے۔