خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 394

خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۴ خطبہ جمعہ ۹ ا پریل ۱۹۷۶ء لئے اور اللہ میں فنا ہو کر اپنی زندگی کو گزارے۔کامل فرمانبرداری ، ایک ایسی اطاعت جواس کے معمولی سے معمولی حکم سے بھی باہر لے جانے والی نہ ہو ، وہ اطاعت جو کامل ہو، وہ اطاعت جو انسان کے وجود کا اس کے اعمال کا اس کے خیالات کا اس کی سوچ کا اور اس کی عادات کا احاطہ کئے ہوئے ہو، اللہ کی ایسی اطاعت کرنا یہ اصل چیز ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنی چاہیے۔پہلے آنے والے مذاہب کا بھی یہی مطالبہ تھا کہ جو خدا کہتا ہے وہ مانو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو کامل اور مکمل شریعت انسان کو دی گئی اس کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ جو خدا کہتا ہے اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو۔فرق یہ ہے کہ پہلوں کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ان کی استعدادوں اور طاقتوں کو دیکھتے ہوئے پورا بوجھ ان کے کندھوں پر نہیں ڈالا تھا کیونکہ وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔اُوْتُوا نَصِيبًا مِّنَ الكتب (ال عمران : ۲۴) یعنی شریعت کا ملہ محمدیہ کا صرف ایک حصہ انہیں دیا گیا تھا لیکن جو بھی دیا گیا تھا اس کے متعلق ان سے مطالبہ یہ تھا کہ جو تم سے کہا جاتا ہے وہ تم کرو اور جو ان سے کہا جاتا تھا وہ ایسے احکام تھے جو کامل نہیں تھے کیونکہ اس وقت وہ کامل احکام کے بوجھ کو اُٹھانے کے قابل نہیں تھے ان میں اتنی استعداد نہیں تھی۔پھر جب انسان کامل شریعت کو اُٹھانے کے قابل ہو گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کامل شریعت اس کے سامنے رکھی اور جو کہا جاتا ہے وہ کرو کی شکل بدل گئی لیکن مذہب کی جو روح تھی وہ وہی رہی کہ جو خدا کہتا ہے وہ کرو۔ایک لحاظ سے یہ چیز آسان بھی ہے اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے فارسی کلام میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ خدا کو پالینا تو ایسا مشکل نہیں ہے وہ جان مانگتا ہے جان دے دو ( کامل اطاعت ) کامل اطاعت سے انسان اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا وارث بن جاتا ہے جن کے متعلق خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اس اطاعت کے نتیجہ میں وہ اس پر نازل ہوں گے۔پہلوں پر وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ جو ان سے کہا گیا تھا جو ان سے مانگا گیا تھا۔جس کا ان سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ اس سے بہت کم تھا جس کا مطالبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت یعنی نوع انسانی سے کیا ہے لیکن پہلوں سے جو کہا گیا تھا، جو ان سے مطالبہ کیا گیا تھا