خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 372
خطبات ناصر جلد ششم ۳۷۲ خطبہ جمعہ ۲۶ / مارچ ۱۹۷۶ء قسم کے دلائل کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ان مقربین اور مطہرینِ امت کو دیتا چلا آیا ہے اس کے علاوہ بھی آسمانی نشانات کا ایک سمندر ہے جو خدائے مہربان نے اسلام کو عطا کئے ہیں۔ان عظیم اور بین دلائل کے ہوتے ہوئے اور نشانات کا اس قدر وسیع سمندر جو ہے اس کے ہوتے ہوئے اسلام کو اپنی صداقت کے منوانے کے لئے اور انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں جاگزیں کرنے کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں لیکن یہ بھی ہمیں نظر آتا ہے کہ ایک وقت میں ایسے لوگ خود اسلام کے اندر پیدا ہو گئے جو اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کی طاقت اور زور کی ضرورت ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نہ تو اسلامی دلائل کا علم رکھتے تھے اور نہ وہ کوئی ایسا روحانی مرتبہ رکھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے حصہ لے کر دنیا کو نشانات دکھانے کے قابل ہوتے۔غرض جہالت اور عدم قابلیت کے نتیجہ میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیل سکتا ہے اس کے اندر کوئی اندرونی محسن نہیں اور نہ اس میں قوتِ احسان پائی جاتی ہے جس زمانہ میں ہم پیدا ہوئے ہیں، یہ دنیوی لحاظ سے علمی میدانوں میں آگے ہی آگے بڑھنے والا زمانہ ہے کیونکہ انسان نے قدرت کے مشاہدہ کے بعد اور تجربات کے نتیجہ میں علم کے میدان میں بڑی ترقیات کر لیں۔لیکن علمی میدان میں ترقی کرنے والے بد قسمتی سے مسلمان محقق اتنے نہیں تھے۔اکا دُکا تو کوئی تھا لیکن اکثریت ان محققین کی یا تو عیسائیت سے تعلق رکھنے والی تھی یا یہودیت سے تعلق رکھنے والی تھی یاد ہریت سے تعلق رکھنے والی تھی یا کسی اور مذہب یا ازم سے تعلق رکھنے والی تھی اور جہاں اُنہوں نے ایک حد تک علوم میں ترقی کی وہاں اُنہوں نے اسلام کے خلاف اور خدا تعالیٰ کی ہستی کے خلاف اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بڑی کثرت سے اعتراضات کرنے شروع کر دیئے اور چونکہ اُن کو علمی لحاظ سے فضیلت حاصل تھی اس لئے وہ اپنی بات منوانے کے لئے اور ایک معصوم ذہن پر اثر ڈالنے کے لئے کہتے تھے دیکھو! ہم نے