خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 366 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 366

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۶ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء یہ بتائی ہے کہ قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے یعنی اپنی تفسیر خود قرآن کریم کر رہا ہے۔چنانچہ خلق كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَة تَقْدِيرًا کے یہ معنی کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر سے اور اپنی قضا و قدر سے انسان کو صاحب اختیار بنا دیا ہے یہ معنی دوسری آیات سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہونے چاہئیں۔اگر قرآن کریم میں کسی اور جگہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی ضد ہو تو پھر یہ تفسیر غلط ہو جائے گی۔پس قرآن کریم اپنی صحیح تفسیر کے لئے کسی غیر کا محتاج نہیں ہے بلکہ یہ اپنی آیات کی خود تفسیر کرتا ہے۔یہ ایک عظیم کتاب ہے۔دیکھو! قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا۔لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى - وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ یری - (النجم :۴۱،۴۰) کہ اجر حاصل کرنے کے لئے عمل کرنے کی ضرورت ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے اور ایک جگہ فرمایا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ (الصف: ٦) بعض لوگ اس پر اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے گمراہی کا انتظام پیدا نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ جب انہوں نے حق سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں جو حق کی مناسبت رکھی تھی اس مناسبت کو زائل کر دیا اور وہ ان کے اندر نہیں رہی اور یہ قانون قدرت ہے کہ جو آدمی بدی کرتا ہے اور بدی پر اصرار کرتا ہے وہ بدی کی نفرت کو کھو دیتا ہے اور اس کے اندر اس کو خوشی اور لذت محسوس ہوتی ہے اور یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اس کی ظاہری اور موٹی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قانون قدرت میں سورج کو روشنی دینے کے لئے بنایا ہے لیکن انسان کے لئے اس نے یہ قانون بنایا ہے کہ اگر وہ کھڑ کیوں اور دروازوں والے کمرے بنائے تو اگر وہ دن کے وقت کھڑکیاں دروازے کھلے رکھے یا ان پر شیشے لگے ہوئے ہوں تو کمرے کے اندر روشنی آئے گی۔ہم ایسے دروازے لیتے ہیں جن میں شیشے وغیرہ نہیں لگے ہوئے تو اگر دروازے کھلے ہوں گے تو کمرے میں روشنی آئے گی۔یہ قانون قدرت ہے اور اگر کوئی شخص اپنے کمرے کے دروازے بند کر دے اور شیشہ وہاں کوئی نہیں لگا ہوا تو وہاں پر اندھیرا ہو جائے گا۔یہ قانون قدرت ہے۔ہر فعل جو انسان سے صادر ہوتا ہے وہ اس کی مرضی سے ہوتا ہے۔اب وہ صاحب اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے کمرے کا دروازہ بند کرے اور چاہے تو اپنے