خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 300
خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۰ خطبہ جمعہ ۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء نگاہ میں حقیر بھی ہیں، بے بس بھی ہیں، کم مایہ بھی ہیں اور دنیا کی نگاہ میں ہم بے سہارا بھی ہیں لیکن ہم اپنے مشاہدہ کی رو سے اس یقین کامل پر قائم ہیں کہ ہم بے سہارا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا سہارا ہمیں حاصل ہے۔اللہ ہمارا ولی ہے اللہ ہمارا مہربان ہے۔اللہ جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے وہ ہمیں پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جس وقت ساری دنیا ہمیں دھتکار کر پرے پھینک دیتی ہے اس وقت ہمارا رب پیار سے ہمیں اٹھا کر اپنے قرب میں ہمیں جگہ دیتا ہے۔جس وقت مخالفت زوروں پر ہو اس وقت دو ذمہ داریاں خاص طور پر نمایاں ہو کر الہی سلسلوں کے سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں اجتماعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی اپنا محاسبہ کریں اور اپنی کمزوریوں کو سامنے لا کر ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہوئے استغفار کے ذریعے اس کی رحمت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔بہرحال ایک ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی اصلاح کے لئے جس حد تک ممکن ہو کوشش کریں اور دوسرے یہ ذمہ داری ہے کہ دعا کریں اور بے حد دعا کریں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جس غرض کے لئے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے وہ غرض پوری ہو اور وہ یہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تمام دنیا میں بلند ہو اور اسلام کا دین تمام ادیان باطلہ پر اور تمام از مز (Isms) پر جنہیں ہم ادیان تو نہیں کہتے مگر وہ اس کے مقابلہ پر آجاتے ہیں مثلاً اشتراکیت وغیرہ ان از مز (Isms ) پر اور ان ادیان باطلہ پر غالب ہو۔اس زمانہ میں ایسا ہونا مقدر ہے ہمیں اس سے زیادہ خوشی اور کوئی نہیں پہنچ سکتی کہ ہم تمام مخالفتوں کے باوجود اپنی نگاہ سیدھی اپنے رب کی طرف رکھیں اور اس کے حضور جھکیں اور اس سے دعائیں کرتے ہوئے اس کی رحمت اور اس کے پیار کو حاصل کریں۔پس ایک تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے نفسوں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور دوسرے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے والا شخص اگر خدا تعالیٰ کی رحمت کو حاصل نہیں کرتا تو وہ اپنی اس کوشش اور تدبیر میں کامیاب نہیں ہوا کرتا۔اس لئے جہاں اپنے نفوس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں وہاں خدا تعالیٰ سے نہایت عاجزانہ دعائیں کرتے ہوئے