خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 228
خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۸ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء خاص علاقے کو اپنی آواز سے معمور کر دیں اور مہدی معہود کی آواز ان کو پکارے کہ جَاءَ الْمَسِيحُ جَاءَ الْمَسِيحُ - صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کے لئے پہلے سال سے ہی ہمیں رقم کی ضرورت پڑ گئی تھی اور پھر اب دوسرے سال میں یہاں پر پریس شروع ہو گیا ہے۔انشاء اللہ کتا میں شائع ہوں گی۔پھر وہ باہر بھی جائیں گی اور یہاں کے لئے بھی کتابوں کی ضرورت ہے۔اپنی آنے والی نسلوں کو تو ہم پیاسا نہیں رکھنا چاہتے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ پانچ ہزار میل پر جا کر تو ہم پیاسے کی پیاس کو بجھانے کی کوشش کریں اور جو پہلو میں بیٹھا ہے وہ پانی کے لئے روحانی پانی کے لئے آب حیات کے لئے ترستا ر ہے ہم اس کی طرف توجہ نہ کریں۔یہ تو نہیں ہوگا ہم نے یہاں بھی خدمت کرنی ہے پیار کی خدمت، بے لوث خدمت اپنی طرف کھینچ لینے والی خدمت۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے نہایت ہی عاجزانہ دعاؤں کی بنیادوں کے اوپر اس خدمت کے مکان تعمیر کرنے ہیں اور یہ جو نوجوان نسلیں ہیں۔اللہ فضل کرے تو ان کو تو خدا تعالیٰ کی محرومی نہیں رہے گی۔اللہ فضل کرے اسی کے فضل سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔پس آپ کی جور قوم کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے اس کی طرف توجہ کریں کراچی پیچھے رہ گیا تھا۔ان کے امیر صاحب آئے ہوئے تھے میں نے ان سے بات کی۔میں نے کہا کہ اگر آپ نے غلطی سے زیادہ وعدے لکھوا دیئے تھے تو کوئی بات نہیں مجھے کہیں میں جلسہ سالانہ پر یہ اعلان کر دوں گا کہ کراچی نے غلطی سے زیادہ لکھوا دیا تھا اب وہ کم کر کے اتنا کر رہے ہیں ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ ہمیں کہیں اور سے دے دے گا۔تو وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ نہیں نہیں جلسے پر اعلان نہ کریں۔بس ہمیں تین سال کی مہلت دے دیں تین سال کی رقم تین سال کے اندرضرور ادا ہو جائے گی۔میں نے کہا کہ سوچیں گے اور آپ بھی جا کر سوچ لیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں یا شاید اس سے پچھلے خطبہ میں کہا تھا کہ ہماری دولت یہ سونا چاندی کے سکے اور ہیرے جواہرات کے انبار نہیں ہیں ہماری دولت تو وہ مخلص دل ہے جو ایک منورسینہ کے اندر دھڑک رہا ہے۔جب تک یہ دل ہمارے ہیں اور جب تک ان سینوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے پیسے کی کسے پرواہ ہے وہ تو اگر ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ