خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 219 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 219

خطبات ناصر جلد ششم ۲۱۹ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۷۵ء کرنے کی ہماری کوشش کامیاب ہو ہی نہیں سکتی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کے لئے استثنائی حالات پیدا کرے۔وہ تو اس کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اس کی عطا ہے۔ہم عاجز بندے تو اپنی کوتاہ فراست اور عقل سے ہی اندازے لگاتے ہیں لیکن وہ جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور جو سب اموال اور دولتوں کا مالک ہے وہ دیتا بھی ہے اور وہ سامان بھی پیدا کرتا ہے۔وہ تو اس کا حصہ ہے اور وہ دے گا لیکن ہمیں اس نے کہا ہے کہ تم اپنی بساط کے مطابق تد بیر کرو اور ہم اپنی بساط کے مطابق اور اپنی سمجھ کے مطابق تدبیر کرتے ہیں۔ہماری ناقص عقل یہ کہتی ہے کہ مثلاً یورپ کے جن ممالک میں ہم نے اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور اسلام کی پیاری اور حسین اور احسان کرنے والی تعلیم ان تک پہنچانی ہے اور اس کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو خدا اور اس کے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے جیتنا ہے یہ کام تب ہو سکتا ہے جب وہاں ہمارا کوئی مرکز بھی ہو، کوئی کام کرنے کی جگہ ہو اور لوگوں کو پتہ ہو اور اگر اور جب دلچسپی پیدا ہوتو وہ اس جگہ پر جا کرا اپنی سیری کا انتظام کر سکتے ہوں اور اپنی لگن کو دور کرنے کے لئے ان کو وہاں سے کوئی لٹریچر مل سکتا ہو۔اس عرصے میں ہم نے بہت سا لٹریچر کتب اور رسائل مختلف زبانوں میں شائع کرنے ہیں۔اب وہاں میں نے ایک مسجد کی بنیا درکھی ہے اور کتب ورسائل کی بیسیوں ضروریات وہاں محسوس ہونے لگی ہیں اور یہ مطالبہ ہو گیا ہے کہ ہمیں اس قسم کا لٹریچر دیں۔ٹھیک ہے صرف دلائل سمجھا کر اور خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے جو وہ احمدیت پر ظاہر کرتا ہے وہ ان کے سامنے رکھ کر ان کو احمدی بنا لینا تو کافی نہیں ہے بلکہ اسلام کی صحیح تعلیم اور قرآن عظیم کی صحیح تصویر ان کے سامنے رکھ کر کوشش کرنا کہ یہ ان کے دلوں میں رچ جائے یہ اصل چیز ہے۔یہ اگر ہم ان کو نہ دے سکیں تو ایسا ہی ہے کہ ہم نے بڑا خوبصورت اور صحت مند درخت لگادیا لیکن اس کو پانی دینے کا ہم نے کوئی انتظام نہیں کیا تو وہ کیسے زندہ رہے گا اور کیسے بڑھے گا۔کیسے نشوونما حاصل کرے گا یا کم از کم کیسے اس قسم کی نشو و نما حاصل کرے گا جیسی ایک صحت مند درخت جب ایک اچھی زمین میں لگایا جائے تو وہ حاصل کر سکتا ہے اس کی تو ساری ضرورتیں پوری ہونی چاہئیں تب جا کر وہ اپنی چھپی ہوئی استعدادوں کی نمائش کر سکتا ہے اور تب وہ اپنی حسین شکل ظاہر کرتا ہے اور تب وہ دنیا کے لئے