خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 3

خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۷۵ء گی۔یہ ذمہ داری جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بھی ہیں اور اس کے شکر کے ترانے بھی پڑھنے والے ہیں اور اس کے حضور عاجزانہ طور پر یہ دعا بھی کرنے والے ہیں کہ ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - کہ اے خدا! جو قوتیں اور استعداد میں انفرادی اور اجتماعی طور پر تو نے ہمیں دی ہیں ہم حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ اُن سے فائدہ اُٹھا ئیں لیکن ہم یہ احساس رکھتے ہیں کہ جب تک مزید قو تیں اور طاقتیں اجتماعی طور پر ہمیں نہیں ملیں گی ، اشاعت اسلام کا وہ عالمگیر منصو بہ جو ہمارے سپر د ہوا ہے اس کو ہم کامیاب نہیں کر سکتے۔اس لئے خدا تعالیٰ سے استعانت کرتے اور اس کی مدد و نصرت کے ہم ہر آن طالب ہیں اور عاجزانہ دعاؤں میں اس نصرت کے حصول کے لئے لگے ہوئے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ زندگی کے ہر مرحلہ میں اور اس اجتماعی جدو جہد کے ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کرنے والا ہو اور ہمیں راہ ہدایت اور صراط مستقیم دکھانے والا ہو اور جماعت کو اجتماعی طور پر بھی صراط مستقیم پر قائم رکھے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے خود ہمارا ہاتھ پکڑے اور ہمیں شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے لے جاتا چلا جائے۔پس ہمارا ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا سال، برکتوں کا سال اور رحمتوں کا سال ہوتا ہے بلکہ ہمارا ہر سال پہلے سے زیادہ برکتوں، پہلے سے زیادہ رحمتوں اور پہلے سے زیادہ فضلوں کا سال ہوتا ہے اس لئے اس نئے سال کو بھی ہم ان عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ شروع کرتے ہیں کہ کہیں ہماری کوئی کمزوری ان برکتوں کے حصول کے راستہ میں حائل نہ ہو جائے بلکہ جیسا کہ پہلے ہوتا چلا آیا ہے اسی طرح اب بھی یہ نیا سال پہلے سے زیادہ رحمتوں، برکتوں اور فضلوں کو لانے والا ہو۔اور تیسری بات یہ ہے کہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا کرتا ہوں۔ایک عرب شاعر نے کہا ہے۔عَيْنُ الرِّضَا عَنْ كُلِ عَيْبٍ كَلِيْلَةٌ كَمَا أَنَّ عَيْنَ السُّخْطِ تُبْدِي الْمَسَاوِيَا یہ شاعرانہ بیان ہے ایک حقیقت کا۔شاعر کہتا ہے کہ انسان کو دنیوی لحاظ سے دو قسم کی