خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 201
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۱ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء کو زندہ کرنے کے لئے ہیں ، اخلاقی مردوں کو اخلاقی حیات دینے کے لئے ہیں ، جو روحانی طور پر خشک ہیں روحانی آب حیات ان تک پہنچانے کے لئے ہیں، یہ ہے ہماری تیاری۔ہم تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ جو اپنی طرف سے ہمارا مخالف ہے ( ہم تو کسی کے دشمن نہیں ہیں لیکن وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارا دشمن ہے ) ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ اس کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چھے، سر پھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہم نے تو پیار سے اپنوں کو بھی جیتنا ہے اور غیروں کو بھی جیتنا ہے اور انشاء اللہ ہم سب کو اُمتِ واحدہ بناویں گے اپنے زور سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے۔خدا نے اپنی رحمتوں سے وہ کچھ ظاہر کیا جس کا تصور بھی ہمارے دماغ نہیں کر سکتے تھے کہ عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ بیرونی ممالک کے سارے اخراجات بیرونی ممالک کی جماعتیں اٹھا لیں گی۔جبکہ اس وقت وہ ایک دھیلہ بھی چندہ نہیں دے رہی تھیں۔باہر کی جماعتوں کے اخلاص کو دیکھ کر مجھے تو خیال آیا کرتا ہے اور یہ جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم مرکزی جماعت ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے پاکستان ہمارا مرکز ہے پاکستان کی خوشحالی کے لئے ہم دعائیں کرتے ہیں اس کی دنیوی خوشحالی کے لئے ہم دعائیں کرنے والے ہیں۔دوسرے لوگ بعد میں آکے کہیں ہم سے آگے نہ نکل جائیں۔ایک پاکستانی احمدی کے دل میں یہ بھی ایک غیرت ہونی چاہیے کہ کسی اور کو ہم آگے نہیں نکلنے دیں گے بلکہ قربانی اور ایثار اور اخلاص اور فدائیت کے جو نمو نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ہم اپنی طرف سے دکھائیں گے کوشش یہ کریں گے کہ خدا تعالیٰ کو وہ سب سے زیادہ پیارے اور مقبول ہو جا ئیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۵ نومبر ۱۹۷۵ ء صفحه ۲ تا ۶ )