خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد ششم ۱۷۴ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء لیکن انفیکشن بدستور قائم رہی اس لئے مشورہ یہ ہوا کہ میں Check up (چیک آپ ) کے لئے بیرونِ ملک چلا جاؤں۔پھر اگست کے شروع میں انگلستان اور یورپ کے بعض ممالک کا دورہ کرنا پڑا لیکن دراصل میں انگلستان چیک آپ کے لئے گیا تھا وہاں گردے وغیرہ کی امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر بیڈنوف ہیں، اُن کو دکھایا اُن کے مشورہ سے کچھ ٹیسٹ ہوئے پھر اُن کو دوبارہ دکھایا۔ٹیسٹ اور ایکسرے رپورٹ دیکھنے کے بعد اُن کی یہ رائے تھی کہ گردے دُرست کام کر رہے ہیں اور جو نالیاں گردوں سے مثانہ تک جاتی ہیں اُن میں بھی کوئی تکلیف نہیں۔مثانہ بھی ٹھیک کام کر رہا ہے ویسے تھوڑی انفیکشن ہو جاتی ہے۔وہ تو ہے لیکن پراسٹیٹ وغیرہ کی کوئی چیز نہ ایکسرے میں نظر آئی اور نہ ویسے ایگزامینیشن میں۔وہاں ذیا بیطس کے جو بہت بڑے ماہر ڈاکٹر ہیں اُن کو بھی دکھایا۔ذیا بیطس کی بیماری پہلی دفعہ ۱۹۶۷ء میں ایکیوٹ (Acute) شکل میں آئی تھی۔کراچی میں کمانڈر شوکت جو احمدی تو نہیں ہیں لیکن بڑے ماہر ہیں اور اچھے پیار سے دیکھنے والے طبیب ہیں۔انہوں نے بڑے پیار سے ٹیسٹ لئے ، معائنے کئے اور وہ اُس وقت اس نتیجہ پر پہنچے کہ ذیا بیطس اپنی بیماری کی شکل میں یعنی Chronic ( کرانک ) شکل میں آگئی ہے۔میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر ذیا بیطس بیماری کی شکل میں آ جائے تب بھی اس میں اپنے رب پر کوئی گلہ نہیں لیکن میرے اندر سے یہ آواز آرہی ہے کہ یہ بیماری عارضی ہے۔کر انک شکل میں کہ جس میں ذیا بیطس بیماری سمجھی جاتی ہے اس شکل میں نہیں اس لئے آپ مجھے ابھی دوائی نہ دیں، پر ہیز بتا دیں چند دن تک دیکھیں اگر میرے اندر کی آواز درست ہے تو بغیر دوائی کے فرق پڑ جائے گا۔خیر انہوں نے میری بات مان لی۔غالباً آٹھ دس ہفتے کراچی میں قیام رہا۔اس عرصہ میں بغیر دوائی کے شکر اپنے معمول کے مطابق یعنی جتنی مقدار میں ہر انسان کے جسم میں ہونی چاہیے اور یہ بڑی ضروری چیز ہے اُس معیار پر آگئی۔جہاں تک پر ہیز کا تعلق ہے میں اس کا بڑا خیال رکھتا ہوں لیکن ایک دن مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں میٹھا کھاؤں۔کمانڈر شوکت نے میٹھا کھانا چھڑوا یا ہوا تھا میں نے آم ایک طرف سے