خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد ششم 1+1 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء تو میری صحت ٹھیک رہتی ہے اور اگر میں تین گھنٹے انتظار کر کے کھانے کی جتنی بھی دنیوی نعمتیں ہیں وہ کھاؤں تو میری صحت خراب ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ ہم باہر گئے ہوئے تھے واپس آنے لگے تو بعض دوست پیچھے پڑگئے کہ جی کھانا ہم کھلائیں گے چنانچہ ایک بجے کا کھانا پانچ بجے تک تیار نہیں ہوا تھا کہ ہم نے معذرت کی اور واپس آگئے سخت سر در دشروع ہو گیا۔پس تکلف تضاد ہے بڑوں اور چھوٹوں میں تکلف مختلف ہوتا ہے۔کھانے کی میں نے بات کی ہے تو بچوں کے بارہ میں بھی بتا دوں۔میرے پاس متعدد بارا کیلا باپ یا ماں باپ دونوں آتے ہیں کہ ہمارا بچہ کھاتا کچھ نہیں اس لئے بہت کمزور ہے۔بچہ بھی ساتھ ہوتا ہے میں ہنس کر کہتا ہوں کہ یہ تو کھانا چاہتا ہے تم نہیں کھانے دیتے۔وہ کہتا ہے مثلاً کہ فلاں چیز کھانی ہے تم کہتے ہو نہیں ، نہیں اس سے تو تو بیمار ہو جائے گا۔فلاں چیز کھاؤ اس کو نہیں اچھی لگتی وہ نہیں کھائے گا۔تو نہ کھانے کی وجہ سے کمزوری پیدا ہو جائے گی۔ایک دفعہ میرے پاس ایک دوست آئے اور اپنے بچے کی کمزوری کا حال بیان کیا تو میں نے کہا یہ کیا چیز مانگتا ہے مجھے بھی بتاؤ جو تم کھانے کو نہیں دیتے۔کہنے لگے مونگ پھلی مانگتا ہے۔میں نے کہا کہ پھر پہلا کام گھر جا کر یہ کرنا کہ میری طرف سے مونگ پھلی خرید کر اس بچے کو دے دینا۔اس موضوع پر ایک ریسرچ ہوئی ہے تکلف کے نتیجہ میں رد عمل ہوتے ہیں ہر جگہ تکلف ہے بچوں کے کھانے کا تکلف ہے۔ایک امریکن لڑکا جس کے ماں باپ اس سے ہر وقت تکلف کیا کرتے تھے کہ یہ نہیں کھانا ، یہ کھانا ہے۔اس کے دماغ میں اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے بچپن میں یہ عہد کیا کہ بڑے ہو کر ڈاکٹر بنوں گا اور کھانے پینے کے معاملہ میں خصوصاً بچوں کے بارہ میں ریسرچ کروں گا۔وہاں چونکہ دولت بڑی ہے بعض ایسوسی ایشنز Associations پیسے دے دیتی ہیں اس نے جب ارادہ ظاہر کیا تو کسی ایسوسی ایشن نے اسے ریسرچ کے لئے پیسے دے دیئے اور اس نے نیوٹریشن Nutrition یعنی بچوں کو کیا غذائیت ملنی چاہیے پر ریسرچ شروع کر دی۔پانچ دس ڈاکٹر اس کے ساتھ اور تھے۔انہوں نے ۲۰۔۲۵ سال تک ریسرچ کی اور اس کے بعد اُس نے ایک بڑی اچھی کتاب لکھی اور اس کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ تھا کہ انسانی جسم کھانے کے لحاظ سے اٹھارہ سال تک بچہ ہے۔اس عمر تک غذا کا جو اصول ہے وہ یہ