خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 69 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 69

خطبات ناصر جلد ششم ۶۹ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء وقت لگے گا لیکن وہ یہ ہے کہ کہنے والے نے کہا تھا کہ میں بینگن کا غلام تو نہیں میں تو بادشاہ کا غلام ہوں۔تو ہم گھوڑوں کے غلام نہیں ہیں لیکن ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور اس غلامی پر ہم فخر کرتے ہیں اور گھوڑوں سے ہم اس لئے پیار کرتے ہیں کہ ہمارے محبوب آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں سے پیار کیا اور اپنے صحابہ میں اس پیار کو اتنا راسخ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔میں نے پہلے بھی بتا یا کہ دو سال ہوئے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اکٹھی کروائیں صحابہ کے اقوال جمع کئے۔سب سے پہلے قرآن کریم کی آیات اکٹھی کیں جن میں گھوڑوں کا ذکر ہے اور اس طرح یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک اتنی موٹی کتاب بن گئی اور وہ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کے متعلق سکھائی ہیں کہ آج یہ دنیا اتنی ترقی کر گئی۔گھوڑے کے علم میں بھی ترقی کر گئی لیکن وہاں تک ان کے ذہن اب بھی نہیں پہنچے۔اب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جہاں آج کی دنیا نہیں پہنچی۔ان حقائق تک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائے۔یہ گھوڑ دوڑ کوئی میلہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنے اس پیار کی ایک عاجزانہ نمائش ہے نمائش بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک ریا کارانہ نمائش ہوتی ہے ایک عاجزانہ نمائش ہے جو محد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار نہیں کرنے والے، ان کی نمائش ریا کارا نہ ہوتی ہے جسے Show کہتے ہیں دکھاوے کے لئے ظاہر کرنا خواہ اندر کھوکھلا ہو لیکن ایک اُس شخص یا جماعت کی نمائش جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والی ہے وہ عاجزانہ نمائش ہوتی ہے۔ریا کے ہر پہلو سے ہم نے اپنے اس قسم کے اجتماعات کو محفوظ کرنا ہے۔بعض لوگوں کو جن کی صحیح تربیت نہیں ہوئی شاید اس سے تکلیف بھی پہنچے لیکن بعض لوگوں کی ظاہر دنیا دارا نہ تکلیف کی ہم کیا پرواہ کر سکتے ہیں ہمیں تو پرواہ یہ ہے کہ کہیں ہمارا رب، ہمارا خالق، ہم سے پیار کرنے والا رب کریم ناراض نہ ہو جائے۔باقی ہمارا یہ کام بھی ہے کہ ہم تربیت کریں ان کی بھی جن کی تربیت پہلے بھی ہو چکی ہے کیونکہ ہم ایک جگہ ٹھہر نہیں سکتے انسان کو مزید تربیت کی ضرورت رہتی ہے اور ان کی بھی جن کی ابھی پوری طرح تربیت نہیں ہوئی۔اس لئے میں نے کہا ہے کہ جو جہاں تربیت کی تھوڑی سی ضرورت نظر آئی تھی اس ضلع کے امیر صاحب کو بلائیں