خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 47

خطبات ناصر جلد ششم ۴۷ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۷۵ء میں نہ حدیث میں اور نہ کسی اور جگہ ہمیں نظر آتا ہے کہ ایسا فساد دنیا میں پیدا ہو گا اور یقین اس بات پر کہ اس فساد کو دور کرنے کے لئے جماعت احمد یہ قائم کی گئی ہے۔ہمارا یہ یقین ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے ہم جب اس یقین پر قائم ہیں کہ ہم نے فساد کو دور کر کے العالمین کے لئے سکھ اور آرام کو پیدا کرنا ہے تو یہ یقین اس وجہ سے ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کوئی تعویذ نہیں ہے۔یہ کوئی شوکیس میں سجانے والی چیز نہیں ہے قرآنی ہدایت عمل کرنے کے لئے ہمارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔قرآن کریم پر اگر ہم نے عمل نہیں کرنا اور اس سے ہم نے فیض حاصل نہیں کرنا تو پھر قرآن کریم کا کوئی فائدہ نہیں۔قرآن کریم نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس کا خلاصہ دو فقروں میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو حقوق قرآن کریم نے بیان کئے ہیں، بندوں کو وہ ادا کرنے چاہئیں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بندوں کے جو حقوق مقرر کئے ہیں ان کی ادائیگی کا بندوں کو خیال رکھنا چاہیے۔ان حقوق میں ایک «خُلق ہے جس نے بہت سی باتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے ایک اور ”حق“ ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا ہے اسی لئے دنیا حیران تھی مگر وہ تو یقین نہیں رکھتی لیکن ہم تو اس یقین پر قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو نوع انسانی کی بہبود کے لئے اور دنیا کو خیر پہنچانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی یقین کا نتیجہ ہے کہ ہم دُکھوں اور پریشانیوں میں بھی مسکرا رہے تھے کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کو اپنے منصوبوں میں نا کام کرنے والی نہیں ہے اور ہمیں اس بات پر بھی یقین تھا کہ ہم اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ نوع انسانی کی خدمت کریں۔بعض لوگ کہتے تھے کہ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ جن حالات میں سے جماعت گزررہی ہے اُن میں بھی وہ مسکراتے چہروں کے ساتھ خدمت کے لئے ہر دم ہر آن تیار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ لکھا ہے آپ کی عبارت کا مفہوم میں اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں اس میں آپ نے مجھے اور احباب جماعت کو یہ تعلیم دی ہے کہ