خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 633
خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۳ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء اس کے بعد سورۃ بقرۃ شروع کر دیں بلکہ صفحے کے درمیان میں سورۃ فاتحہ آئی ہوتی ہے اور باقی صفحہ کو انہوں نے نقش و نگار سے سجایا ہوتا ہے چھوٹی سی سورۃ ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ یہ جو چھوٹی سی سورۃ قرآن کے شروع میں سورۃ فاتحہ ہے اگر تم اپنی اتنی بڑی کتاب بائیبل سے وہ روحانی علوم اور اسرار جو اس چھوٹی سی سورۃ میں پائے جاتے ہیں نکال کر دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس کچھ ہے۔تم نے بات شروع کر دی سارے قرآن کریم کی تمہاری کتاب تو سورۃ فاتحہ کا مقابلہ نہیں کرتی ،لمبازمانہ گزرگیا۔عیسائی پادریوں نے سوچا کہ یہ جو چیلنج دیا گیا ہے قرآن کریم اور بائیبل کے موازنہ کا ہمارے خاموش رہنے سے دنیا اس کو بھول جائے گی اس لئے جب میں ۱۹۶۷ء میں اپنی خلافت کے زمانہ میں پہلی بار یورپ گیا تو ڈنمارک میں عیسائی پادریوں نے مجھ سے ملاقات کی خواہش کی۔میں نے انہیں وقت دیا۔باتیں ہوتی رہیں جب وہ جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی چینج میں نے ان کو دیا جو کہ دراصل تو اس اعتراض کا جواب تھا کہ بائیبل جو موجود ہے تو قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بائیبل تو ہے لیکن اس میں سورۃ فاتحہ جیسے علوم روحانی اور اسرار موجود نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کا انگریزی ترجمہ کروایا ہوا تھا چنانچہ جس وقت وہ جانے لگے تو میں نے آپ کے الفاظ میں وہ چیلنج ان کو دیا۔میں نے کہا کہ میں نے آپ کو دوران گفتگو اس لئے یہ چیز نہیں پکڑا ئی تھی کہ اس وقت آپ مجھے کہتے کہ ہم فوری طور پر کیسے جواب دے سکتے ہیں۔تو میں آپ سے ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہتا تھا جس کو آپ فوری طور پر منظور کر کے اس کا جواب نہ دے سکیں۔اس لئے جب ہم باہر نکل آئے ہیں اور میں آپ کو الوداع کہہ رہا ہوں میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس دیتا ہوں اور پھر میں نے انہیں کہا کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ جس نے عیسائیت کو اس مقابلے کی طرف بلا یا تھا اس کا تو ۱۹۰۸ء میں وصال ہو گیا اب ہم جواب دیں تو کس کو جا کر دیں۔میں نے کہا کہ میں آپ کا نائب اور خلیفہ موجود ہوں۔تم جواب دو اور میں اسے قبول کروں گا اور پھر مقابلہ ہو جائے گا۔غرض میں نے انہیں کہا کہ یہ لے جاؤ ، سر جوڑ و ، سارے پادری اکٹھے ہوکر مشورے کرو اور مجھے اس کا جواب