خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 632
خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۲ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء لیتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسی کتاب جو لفظاً اور معناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو وہ اس صفت سے متصف ہوگی کہ اس کی مثل بنانے پر خدا تعالیٰ کی کوئی مخلوق قادر نہیں ہے۔لفظ “ تو واضح ہے کہ وہ کتاب جو لفظاً خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اس کے الفاظ وحی کے ذریعے نازل ہوئے ہوں اور پھر اسی طرح محفوظ ہوئے ہوں اور محفوظ چلے آئے ہوں اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کہ قیامت تک کہ جب تک کے لئے یہ کتاب ہے وہ محفوظ چلتے چلے جائیں گے۔لیکن معنا “ کے کیا معنی ہیں۔ہر آدمی کے لئے اس کا سمجھنا آسان نہیں۔مَعْنًا کے معنی کی رُو سے قرآن کریم کی کسی تفسیر کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے بہتر تفسیر پیش نہیں کی جاسکتی۔یہ اس لئے ہے کہ قرآن کریم کے بے شمار بطون ہیں اور قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قیامت تک کے انسانی مسائل کو حل کرنے کی طاقت مجھ میں ہے۔تو جو تفسیر قرآن کریم کی کسی آیت کی ہمارے دوسری صدی کے بزرگوں نے دنیا کے سامنے رکھی اس سے بہتر تفسیر مہدی معہود نے چودھویں صدی کے اندر انسان کے ہاتھ میں دے دی۔پس معنا کے لحاظ سے یہ مراد نہیں ہے کہ کسی انسان کی لکھی ہوئی تفسیر سے بہتر نہیں پیش کی جاسکتی بلکہ معنا سے مراد یہ ہے کہ وہ معناً خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو اور اس لحاظ سے وہ بے مثل و مانند ہو۔اس کے سمجھانے کے لئے میں یہ مثال دوں گا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر عیسائیوں نے یہ اعتراض کروایا کہ جب آپ کے نزدیک بھی بائیبل خدا تعالیٰ کے نبیوں پر نازل ہونے والی کتب کا مجموعہ ہے تو جب آپ کے نزدیک بائیبل بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اتنی موٹی کتاب ہے تو قرآن کریم جو جم میں اس سے چھوٹا ہے اس کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کا جواب دیتے ہوئے لمبی بحث میں نہیں گئے۔اس وقت میرے ذہن میں نہیں ممکن ہے اس کے متعلق بھی اصولی اشارے ہوں لیکن آپ نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ قرآن کریم کی بات نہ کرو اگر تم قرآن کریم کے شروع میں سورۃ فاتحہ کا مقابلہ کر کے دکھا دو جو سات چھوٹی آیات پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورۃ ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ چھاپنے والے سورۃ فاتحہ کو ہمیشہ ایک صفحہ پر چھاپتے ہیں یعنی یہ نہیں کہ اس صفحہ پر او پر چند آیتیں سورۃ فاتحہ کی اور