خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 624 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 624

خطبات ناصر جلد ششم ۶۲۴ خطبہ جمعہ ۱۷ ردسمبر ۱۹۷۶ء اور اپنے جلسہ میں شامل ہوں اس کے علاوہ اور بھی روکیں ہونے کے باوجود پچھلے سال کی نسبت اس سال جلسہ سالانہ میں شامل ہونے ہونے والوں کی تعداد زیادہ تھی بعض دفعہ میں حیران ہوتا تھا کہ کیسے اور کہاں سے آگئے۔احساس یہ ہوتا تھا کہ شاید آسمان سے ٹپکے ہوں اور آسمان سے ہی آئے کیونکہ جو توفیق خدائے واحد و یگانہ سے ملتی ہے وہ بلند یوں ہی سے ملتی ہے اور بلندی کی طرف لے جانے والی ہی وہ تو فیق ہوتی ہے۔مہمانوں کو ٹھہرانے میں بھی پریشانی کا سامنا تھا۔اس کثرت سے مہمان آئے کہ میں نے سنا ہے کہ بعض نا سمجھ لوگوں نے اس شبہ کے ماتحت کہ شاید تعلیمی اداروں میں مہمانوں کو ٹھہرایا گیا ہو خاموشی کے ساتھ وہاں جا کر کمرے کمرے کی چھان بین بھی کی کہ کہیں یہاں تو مہمان نہیں ٹھہرائے گئے وہاں تو جیسا کہ پرانا دستور تھا مہمان نہیں ٹھہرائے گئے لیکن میں نے جلسہ سالانہ سے قبل اہل ربوہ سے کہا تھا یہ وقتیں ہیں اس لئے جلسہ پر آنے والے بھائیوں کو تم اپنے سینوں سے لگا لو اور میں خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ربوہ کو یہ توفیق عطا کی کہ آنے والے مہمانوں کو اُنہوں نے اپنے سینوں سے لگایا اور اپنے گھروں میں اُن کو جگہ دی اور بہتوں نے خلاف دستور لنگر سے کھانا بھی نہیں منگوایا بلکہ اپنے گھروں میں پکا کر اُن کو کھانا بھی دیا۔مجھے معلوم ہوا جلسہ کے ایام میں مستورات اپنی قیام گاہوں میں آتی تھیں تو چونکہ عمارتیں تو نہیں تھیں کچھ شامیانے تھے اور کچھ خیمے تھے اس قسم کے انتظامات تھے وہاں آ کر وہ اپنا سامان رکھتی تھیں پھر کہتی تھیں ہم مکانوں کی تلاش میں نکلتی ہیں۔اب اگر دس عورتیں تلاش کے لئے جاتیں تھیں تو دو تین واپس آجاتی تھیں باقیوں کو مکانوں میں جگہ مل جاتی تھی اُن کی جو واقف ، دوست ، شناس تھیں وہ کہتی تھیں ٹھیک ہے ہمارے پاس آجاؤ۔غرض ایک طرف ایسا عظیم کردار اہل ربوہ نے دکھایا ہے کہ اس کرہ ارض پر اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی اور دوسری طرف جو جلسہ سالانہ پر آئے اللہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اور غلبہ اسلام کے جو جلوے دنیا میں ظاہر ہورہے ہیں اُن کا علم حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے اُنہوں نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ کوئی دنیوی اور جسمانی تکلیف اُن کی