خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 620
خطبات ناصر جلد ششم ۶۲۰ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۶ء ہم اس اللہ پر ایمان لائے اس لئے ہمیں کسی غیر کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔نہ قبروں پر جا کر سجدہ کرنے کی ضرورت ہے نہ کسی پیر کی پرستش کرنے کی ضرورت ہے۔ایک خدا ہے ہمارا جس کی ہمیں احتیاج ہے اور وہ ایک ڈر ہے جس کو ہم ضرورت کے وقت کھٹکھٹاتے ہیں اس کے علاوہ کسی اور درکو پہچانتے بھی نہیں۔یہ ہے ہمارا عقیدہ۔ہمارے اس اللہ نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرا محبوب ہے اور خدا نے ہمیں کہا کہ اگر تم میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہوتو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو میں تم سے پیار کرنے لگ جاؤں گا چونکہ ہمارے خدا نے یہ کہا اس لئے ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا انتہائی عشق رکھتے ہیں کہ کسی انسان نے کسی دوسرے انسان سے نہ کبھی ایسا عشق کیا اور نہ کر سکتا ہے کیونکہ ہمارا عشق اپنی انتہائی رفعتوں کو پہنچا ہوا ہے اور دوسرے عشق اور پیار وہاں تک نہیں پہنچے اور پہنچا اس لئے ہے کہ ہمارے رب نے ہمیں کہا کہ اگر تم میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو میرے محمد میرے محبوب سے تم پیار کرو اس کے بندے بنو ( قُلْ يُعِبَادِی میں اس طرف اشارہ ہے ) اور اس کی اتباع کرو میرا پیار تمہیں مل جائے گا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن عظیم کو نازل کیا اور یہ خدا کا کلام ہے اور یہ کامل اور مکمل شریعت ہے اور قیامت تک کے انسانی مسائل کو حل کرنے والا ہے۔ہم پہلے تو غیب پر ایمان لانے کی طرح اس پر ایمان لائے لیکن جب خدا تعالیٰ کے اس عظیم کلام پر جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ہاتھ میں پکڑا یا ہم نے غور کیا جب ہم نے ادھوری عقلوں کو اندھیروں میں اِدھر اُدھر بھٹکتے دیکھا اور سر کے بل گرتے دیکھا اور مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل پیدا کرنے والا پایا تو ہم نے محسوس کیا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم جیسی جو عظیم کتاب ہمیں دی ہے اور ان ادھوری عقلوں کو روشنی عطا کرنے والی اور انسانی مسائل کو حل کرنے والی ہے اور اس کے بغیر انسان کا گزارہ ہی نہیں ہے۔آج نہیں تو کل انسان کو اپنی بقا اور اپنی ترقیات کے لئے یہ حقیقت سمجھنی پڑے گی۔اس اسلام پر ہم ایمان لائے ہیں وہ مذہب جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش