خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 619 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 619

خطبات ناصر جلد ششم ۶۱۹ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۶ء اس کو پیدا کیسے کرنا تھا۔وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ خدا تعالیٰ کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات میں کوئی شریک نہیں اس معنی میں کہ جہاں کہیں اس کی مخلوق میں اور اس میں مماثلت یا مشابہت پائی جاتی ہے وہاں بھی بنیادی طور پر اتنا عظیم فرق ہے کہ ان دو چیزوں کو ہم ایک نہیں کہہ سکتے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اللہ سنتا ہے اس کی ایک صفت السمیع بھی ہے اور انسان بھی سنتا ہے لیکن انسان کے سننے اور اللہ تعالیٰ کے سننے میں بنیادی طور پر بہت بڑا فرق ہے۔خدا تعالیٰ سنتا ہے بغیر کسی آلہ کی احتیاج کے اور انسان سنتا ہے اپنے کان سے۔خدا تعالیٰ سنتا ہے بغیر صوتی لہروں کے اس کو سننے کے لئے ان کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمارے کان کو صوتی لہروں کی اور وہ بھی خاص حدود کے اندر مقید لہروں کی ضرورت ہے جن کو صرف انسان کا کان سن سکتا ہے بعض دوسری لہریں ہیں جن کو بعض جانور سنتے ہیں انسان نہیں سن سکتا۔میں یہ بتارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بھی سنتا ہے اور انسان بھی سنتا ہے لیکن خدا تعالیٰ بغیر کسی مادے کی احتیاج کے، بغیر کسی کان کے سنتا ہے اور اس کو سننے کے لئے صوتی لہروں کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ سنتا ہے جو دعائیں ہم کرتے ہیں وہ صوتی لہروں کے ذریعہ سے اس تک نہیں پہنچتیں بلکہ وہ ان کے بغیر ہی سنتا ہے۔ان لہروں کی اس کو ضرورت نہیں ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں ہمیں آنکھ کی ضرورت ہے ہم دیکھتے ہیں ہمیں سورج کی روشنی کی ہمارے اپنے وجود سے باہر کی روشنی کی ہمیں ضرورت ہے لیکن اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے بغیر آنکھ کے اور دیکھتا ہے بغیر کسی اور نور کے۔وہ تو خود ہر دو جہاں کا نور ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور : ٣٦) پس جہاں بظاہر تھوڑا سا اشتباہ پیدا ہوتا ہے یا مماثلت پیدا ہوتی ہے وہاں بھی اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے وہ بڑا عظیم فرق بتاتی ہے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں اور انسان کی کچھ تھوڑی سی مشابہت میں۔تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله کو ہم اس معنی میں بھی لے سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا تھوڑا ساحصہ انسان کو یا دوسرے جانوروں کو ملا ہے لیکن بڑا فرق ہے پس جہاں تک خدا تعالیٰ کی صفات کا تعلق ہے کوئی چیز اور کوئی وجود اس کی صفات میں شریک نہیں ہے۔