خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 605
خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء کتا خریدا جو پہرے کا کتا ہے۔کسی دوست نے اُن سے کہا کہ آپ کو اس کی کیا ضرورت ہے۔آپ تو یہاں سے اپنے ملک (یورپ) واپس جا رہے ہیں اور وہ تو بڑی مہذب دنیا ہے اس لئے آپ کو پہرے کے لئے اس قسم کا کتا خریدنے اور اس پر اتنا خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا جتنا میں نے اس کی خرید پر خرچ کیا ہے اُس سے آٹھ دس گنا زیادہ میں اس کی ٹریننگ اور تربیت پر خرچ کروں گا کیونکہ اس قسم کے خطرناک ڈراؤنے کتوں کے بغیر ہم لوگ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔پس اندرونی طور پر ان مہذب ممالک کا یہ حال ہے کہ کوئی سکون نہیں کوئی حقیقی راحت نہیں۔بعض دفعہ مرد گھروں میں نہیں ہوتا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے اور اگر مالکہ مکان دروازہ کھول دے تو اس کی عزت بھی اور جان بھی چلی جاتی ہے۔اس قسم کے خطرہ کے لئے اب اُنہوں نے دروازوں میں ایسے چھوٹے چھوٹے سوراخ بنا دیئے ہیں جو باہر سے نظر نہیں آتے ان سوراخوں کے ذریعہ دروازہ کھولنے سے پہلے باہر جھانک کر دیکھ لیا جاتا ہے کہ کس قسم کا آدمی ہے۔واقف بھی ہے یا نہیں۔بہر حال یہ جو مہذب دنیا کہلاتی ہے اپنے پیدا کرنے والے رب کریم سے دوری کے نتیجہ میں اُن کا امن اور سکون برباد ہو چکا ہے اور یہ تو منفی پہلو ہے جو مثبت پہلو ہے اور جس سے وہ بد قسمتی سے محروم ہو گئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے پیار کے جلووں کے نتیجہ میں انسان جو سکھ اور چین حاصل کرتا ہے اُس سے محرومی ہے۔اُن کو یہ تو پتہ ہے کہ ”حرام“ کے کھانے میں یا شراب کے پینے میں عارضی اور لغو قسم کی لذت ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کے پیار میں انسان کس قدر سرور حاصل کر سکتا ہے اور اس کے اوپر ساری دنیا کی لذتیں قربان کی جاسکتی ہیں۔غرض منفی پہلو سے جرائم کی کثرت نے اُن کے امن کو برباد کیا اور مثبت پہلو کے لحاظ سے اُنہوں نے اپنے آپ کو سچی راحت اور حقیقی خوشیوں سے محروم کر لیا۔انسانی زندگی پر بعض دفعہ ایسے اوقات آتے ہیں کہ وہ لوگ بھی جن کا ماحول بحیثیت مجموعی اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہو ان کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ذمہ داریوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے یہ خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کہ شیطانی وساوس اُن کو