خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 581
خطبات ناصر جلد ششم ۵۸۱ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۶ء تو خدا کی پناہ، اللہ محفوظ رکھے اس قدر ہیں کہ آپ لوگ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔آپس کی چپقلش ، بے اعتباری، بدظنی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں نے ان کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔پھر حوادثات بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ابھی پچھلے مہینوں میں جبکہ میں دورے پر رہا ہوں پہلے وہاں پانی کی کمی ہوگئی اور انگلستان جیسے ملک میں جہاں یہ حال تھا کہ جب میں پڑھا کرتا تھا تو ان دنوں میں اگر کسی دن دو تین گھنٹہ کے لئے سورج نظر آتا تھا تو لوگ بڑے خوش ہوتے تھے کہ سورج کی شعاعوں نے ہمیں گرمی اور لذت پہنچائی وہاں اب یہ حال تھا کہ ہفتوں بلکہ مہینوں گزر گئے کہ بارش نہیں برسی بلکہ بہت سے علاقوں میں بادل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔یہاں تک کہ انگلستان کے بعض حصوں میں پانی کا راشن کر دیا گیا اور وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اگر مہینہ دو مہینے یہی حالت اور رہی تو ہم جہازوں کے ذریعہ، ٹینکرز کے ذریعہ ناروے سے پینے والا پانی اپنے ملک کے لئے لے کر آئیں گے۔درخت جل رہے تھے، لوگوں نے گھروں میں جو پودے لگائے ہوئے تھے وہ سوکھ رہے تھے اور ہدایت یہ تھی کہ ان پودوں کو پانی نہیں دینا کیونکہ پانی کی کمی ہے اور پھر جب میں واپس آیا ہوں تو بارش ہوئی اور بارش وہ ہوئی کہ یہ خبر میں آنے لگیں کہ فلاں علاقے میں سیلاب آگیا ہزار ہا آدمی بے گھر ہو گئے ، مکان بہہ گئے ، پانی کا جو ریلہ آیا وہ پورا مکان کا مکان ہی بہا کر لے گیا کئی جانیں تلف ہوئیں اور نقصان ہو گیا۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی فلاح اور کامیابی اور خوشحال زندگی کے لئے لیم بھیجی ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اس لئے اپنے ہاتھ سے بھی وہ اپنی ناکامیوں کے سامان پیدا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بیدار کرنے کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے منہ اور توجہ کو پھیرنے کے لئے انہیں گاہے گاہے جھنجھوڑتا بھی رہتا ہے جیسا کہ اس کی سنت ہے۔یہ بات کرتے ہوئے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے پیاروں کے ذریعے سے اور اب اس زمانہ میں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے نہایت ہی پیارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنی رحمت کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایک دفعہ قحط پڑا۔مدینہ میں بعض صحابہ نے جمعہ کے وقت کہا کہ یا رسول اللہ !