خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 575
خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء بوڑھی ہو ئی ہوئی تھی اور طبیعت بالکل بدلی ہوئی تھی یعنی اتنی بدلی ہوئی تھی کہ کوئی صحافی بات کرتا تھا تو اگر وہ بجھتی تھی کہ میرا جواب کسی پہلو سے تشنہ رہ گیا ہے اور ان عیسائیوں کو سمجھ نہیں آئے گی تو پھر وہ مجھ سے سوال کر کے وہ چیز پوچھ لیتی تھی تا کہ بات نمایاں ہو کر اور کھل کر ان لوگوں کے سامنے آجائے۔دوسرے یہاں یہ دیکھنے میں آیا کہ انہوں نے ایک سوال پوچھا تو قبل اس کے کہ جواب مکمل ہو دوسرا سوال کر دیا۔بعض دفعہ صحافی یہ چالا کی کرتے ہیں کہ سوال کیا جب اپنے مطلب کا جواب نہیں ملا تو پھر اگلا سوال کر دیا قبل اس کے کہ جواب ختم ہو یعنی آدھا جواب دیا تو اگلا سوال۔اس کا جواب بھی اپنے مطلب کا نہیں ملا تو پھر اگلا سوال۔چنانچہ انہوں نے ایک سوال کیا جس کا جواب دینے میں میں نے دس پندرہ منٹ لینے تھے میں نے کہا بات یہ ہے کہ تمہارے سوال کا جواب بڑ ا لمبا ہے اگر تم میں صبر ہے اور میری بات سنے کا حوصلہ ہے تو میں جواب دیتا ہوں ورنہ تم اگلا سوال کر دو۔انہوں نے کہا نہیں ہم صبر کے ساتھ سنیں گے اس پر میں نے تفصیل کے ساتھ اسلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔اس دورے میں مجموعی طور پر ایک بات یہ نظر آئی کہ اب ساری دنیا مغرب بھی اور مشرق بھی یعنی امریکہ، انگلستان اور یورپ بھی اور مشرقی دنیا بھی جس میں بعض لوگ روس کو بھی شامل کرتے ہیں وہ ہماری باتیں سننے کے لئے تیار بھی ہے اور پیاسی بھی ہے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ جو کچھ ہم نے اس وقت تک کیا ہے اس سے ہماری فطرت تسکین نہیں پاتی اس لئے اپنی فطرت کی تسکین کے لئے انہیں کچھ ملنا چاہیے۔یہ احساس اب پیدا ہو گیا ہے میں مشرق کا نام اس لئے بھی لے رہا ہوں ( مختصراً بتاؤں گا ) کہ میرے باہر کے دوروں میں پہلی بار روس نے دلچسپی لی اور مختلف جگہوں پر ہمارے جو فنکشنز (Functions) تھے ان میں ان کے نمائندے شامل ہوئے۔میں اس کی تفصیل پھر کسی وقت بتاؤں گا۔میری یہ خواہش تھی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً پوری ہو گئی ہے میں چاہتا تھا کہ بہت لمبا خطبہ دوں تا کہ اجتماع نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی کچھ کمی پوری ہو جائے۔اس دورے کی بہت سی باتیں ہیں میں نے بتایا ہے کہ قریباً دو مہینے تو میرے ایسے گذرے ہیں کہ دو دن ایک جگہ چار دن