خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 570
خطبات ناصر جلد ششم ۵۷۰ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء ہے منصورہ بیگم اور جماعت کی دوسری خواتین پردہ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔میں نے ان کو کہلا بھیجا کہ وہ دوسری طرف سے جا کر موٹر میں بیٹھیں۔میں جب نیچے اُتر ا تو وہاں کے مقامی احمدی دوستوں نے میرے پرائیویٹ سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں کو اتنے دھکے دیئے کہ اُن کا پتہ ہی نہیں لگا کہ وہ کہاں گئے اور مصافحہ شروع کر دیا ٹھیک ہے مصافحہ شروع ہو گیا لیکن یہ مصافحہ عام مصافحہ نہیں تھا ہر شخص میرا ہاتھ پکڑتا تھا اور پھر چھوڑتا ہی نہیں تھا میرا منہ دیکھتا تھا اور میرا ہاتھ چھوڑ تا ہی نہیں تھا اور ساتھ والا انتظار کرتا رہتا تھا آخر تنگ آکر ( یہ واقع ہوا بیبیوں مصافحوں میں ) کہ وہ ایک ہاتھ سے اس کی بانہہ پکڑتا تھا اور دوسرے ہاتھ سے میرا بازو پکڑ کر جھٹکا دے کر چھڑاتا تھا اور پھر خود مصافحہ کرنے لگ جاتا تھا اور وہ بھی ہاتھ نہیں چھوڑتا تھا اور پھر ا گلے آدمی کو یہی کرنا پڑتا تھا۔اس طرح بڑی مشکل سے ہم وہاں سے مصافحے کر کے نکلے اور رات کے بارہ بجے واپس اپنی جائے رہائش پر پہنچے۔میں اتنا احمق تو نہیں (یہ میں احمدیوں کو نہیں کہہ رہا۔وہ تو جانتے ہیں دوسرں سے کہتا ہوں ) کہ میں یہ سمجھنے لگ جاؤں کہ میری کسی خوبی کے نتیجہ میں ۵-۶ ہزار میل دور میری اس قسم کی محبت ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی کہ جنہوں نے مجھے کبھی دیکھا نہ میرے حالات ہی زیادہ تر جانتے تھے۔افریقہ میں اس قسم کا جذبہ ہے کہ افریقہ سے مجھے ایک شخص نے خط لکھا جس میں اس قسم کی بات تھی کہ آپ کی جان پر اس طرح حملے ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔میری عادت یہی ہے کہ میں ایسے موقع پر کہا کرتا ہوں کہ جب تک خدا مجھے زندہ رکھتا ہے اُس وقت تک کسی بات کا ڈر نہیں۔میں تو ۱۹۴۷ء میں گولیوں کے اندر پھرتا رہا ہوں جیپ لے کر مسلمانوں کو بچانے کے لئے۔پس زندگی اور موت تو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے بہر حال میں نے خط پڑھا اور میاں مظفر احمد کو کہا یہ خط ہے آپ بھی اسے پڑھ لیں لیکن بالکل فضول ہے۔اُنہوں نے مشورہ دیا کہ رشید امریکن جو ہمارے وہاں کے نیشنل امیر ہیں اُن کو دکھا دیں خیر اس کو دکھایا تو اُن کا رد عمل بالکل اور تھا۔وہ سمجھتے تھے یہ ہماری ذمہ داری ہے چنانچہ جب یہ بات پھیل گئی تو ۳ سومیل پر کچھ احمدی ایسے شعبے میں تھے جن کو انہی کاموں یعنی حفاظتی کاموں کے لئے