خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 569
خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۹ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء با ہر سے بھی آئے ہوئے ہیں اگر چہ اجتماع تو بعض وجوہ کی بناء پر نہیں ہوسکا لیکن میں ان کو سنادیتا ہوں کہ یہاں ہمارے علاقے کے افسر صاحب کہنے لگے کہ نوجوان احمدی اپنی قیادت بدلنا چاہتا ہے یعنی خلیفہ وقت کو اتار کر نیا خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔جس کے سامنے اس نے بات کی وہ تو ہنس پڑا اس نے کہا تم تو اتنی دیر سے یہاں ہو لیکن جماعت کو جانتے ہی نہیں۔دنیا میں قیادتیں بدلا کرتی ہیں جو سیاسی قیادتیں ہیں وہ بدلا کرتی ہیں اپنی کمزوریوں کے نتیجہ میں۔لیکن جو کمزور ہے اور کمزوری پر ہی راضی ہے خدا کا ایک عاجز بندہ ہے جسے خلیفہ وقت بنا دیا جاتا ہے اور وہ ہر آن چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لئے خدا تعالیٰ کا محتاج ہے اور اپنے اس مقام کو کبھی بھولتا نہیں اور ہمیشہ یا درکھتا ہے اور اعلان کرتا ہے پبلک میں کہ میرے جیسا عاجز انسان کوئی نہیں وہ کس مقام سے نیچے گرے گا۔اس کا مقام تو ہے ہی عاجزی کرنا لیکن جس ہستی نے اس کا ہاتھ پکڑا ہے اس کی قدرتوں کا تو دنیا کی طاقتیں یا دنیا کے ذہن ساری عمر مقابلہ نہیں کر سکتے۔دنیا عدم علم یا جہالت کی وجہ سے سب کے ساتھ یہی کرتی رہی ہے جو لوگ سوچتے رہتے ہیں وہ اسے سوچتے رہیں۔میں ۱۹۷۰ء میں افریقہ کے دورہ پر گیا اور وہاں جماعت کی عقیدت کا یہ حال تھا کہ دوست مصافحہ کرتے تھے اور ہاتھ چھوڑتے ہی نہیں تھے۔اب یہ چیز نہ میری خوبی کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے اور نہ میری کوشش کے نتیجہ میں۔ایک جگہ تو ہمارے مبلغ نے پروگرام ایسا بنایا تھا جو میرے لئے بڑا تکلیف دہ تھا کیونکہ سومیل کے قریب فاصلہ طے کر کے میں ایک جگہ ایسے بے وقت پہنچا کہ میں جماعت سے مصافحہ نہیں کر سکتا اور وہاں میں نے ایڈریس دینا تھا جس میں غیر ملکی عیسائی بھی آئے ہوئے تھے۔اُن میں یونیورسٹی کے عیسائی پروفیسر اور طالب علم بھی شامل تھے۔میں نے بہر حال ایڈریس دینا تھا کیونکہ غیروں کو بلایا ہوا تھا میں نے سوچا مصافحے کروں گا تو ایڈریس نہیں دے سکتا ایڈریس دوں گا تو مصافحے نہیں کر سکتا۔خیر میں نے ایڈریس دیا۔سوال و جواب ہوتے رہے اس میں بہت دیر ہو گئی اور جب خاصا وقت گزر چکا تو ہمارے مبلغ نے اعلان کر دیا کہ مصافحے نہیں ہوں گے۔اب وہ لوگ جن کی ساری عمر میں پہلی دفعہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ اُن کے پاس گیا تھا اور کوئی پتہ نہیں پھر کب اُن کو موقع ملے وہ مصافحے کے لئے ٹوٹ پڑے۔خدا کا شکر