خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 567
خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۷ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء کے گھر بھر دیئے پھر اور قربانیاں دیں اور خدا نے اُن کے اور زیادہ گھر بھر دیئے۔یہ سلسلہ تو اپنے طور پر جاری ہے لیکن ہر شخص کو ہر وقت جب تک کہ اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہو جائے اس وقت تک یہ فکر رہنی چاہیے کہ ہم خدا کی راہ میں تھوڑا بہت جتنا بھی اس کے سامنے پیش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے اور ہمارے گھروں کو اپنی رحمتوں سے بھر دے اور اپنے نور سے ہمارے سینوں اور ہمارے ذہنوں کو بھر دے اور ہمیں اس کے نور کے پھیلانے کا ذریعہ بنادے۔اس کے بعد ہم ڈنمارک گئے وہاں بھی یہی مسئلہ در پیش۔وہاں کے مبلغ انچارج مجھے کہنے لگے کہ یہاں کے پرانے احمدی خاندان کہتے ہیں کہ وہ ساری کتابیں پڑھ چکے ہیں اور کتابیں دو۔ڈنمارک سے ہم مغربی جرمنی چلے گئے جرمنی میں ایک چھوٹا سا فنکشن (Function) فرینکفرٹ کے میئر نے کیا ہوا تھا وہ بڑی دلچسپی لے رہا تھا اور پوچھتا تھا کہ تعلیم کیا ہے اور آپ نے افریقہ میں کیا کام کیا ہے اور کتنے ہسپتال کھولے اور کتنے سکول کھولے اور آپ افریقی لوگوں کی اور کیا خدمت کر رہے ہیں؟ غرض وہ اس تقریب کے موقع پر بہت دلچسپی لے رہا تھا اس نے بلایا ہوا تھا ایک صوبے کے منتخب ممبر کو جو پادری تو نہیں تھا لیکن عیسائی ایسوسی ایشن کا منتخب ممبر تھا اور ساری عمر ہی ممبر رہا ہے۔اس کو بلوایا ہوا تھا پتہ نہیں اس سے اُن کی کیا غرض تھا چنانچہ میں نے دوران گفتگو اُسے بتایا کہ ہم افریقہ میں اس اس طرح خدمت کر رہے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں کسی اور سے ہمیں پیسہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا در ہمارے لئے کافی ہے اور میں نے کام بتائے کہ اس طرح ہم خدمت کر رہے ہیں تو اس نے اس منتخب ممبر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر اس سے کہنے لگا کہ آپ سن رہے ہیں کہ یہ کیا بتارہے ہیں۔پس بعض دفعہ میں بہت پریشان ہوتا ہوں خود اپنے آپ کو اور جماعت کو سامنے رکھ کر کہ ایسا نہ ہو ہم خدا تعالیٰ کی ناشکری کر جائیں۔خدا تعالیٰ اتنے فضل کرتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔۱۹۷۰ ء میں جب ہم لائبیریا میں گئے۔زمین تو ہمیں پہلے ہی پریذیڈنٹ ٹب مین صاحب نے دے دی تھی ڈیڑھ سو ایکڑ۔اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔غرض ایک جگہ پچاس ایکڑ زمین ہے اور غالباً دوسری جگہ بھی اتنی ہی ہے لیکن وہاں مکان تعمیر ہونے میں اور سکول اور ہسپتال جاری