خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 500 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 500

خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۰ خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۷۶ء آثار الصفات ( یعنی ان صفات کا جو اثر ہوتا ہے اس کو ہم جلوہ بھی کہتے ہیں اثر کی جمع آثار ہے ) کے اثر کو قبول کرنے کی خاصیت ہر مخلوق میں پیدا کی گئی ہے چھوٹی میں بھی اور بڑی میں بھی۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود ہیں اور ان کی حد بست نہیں کی جاسکتی اور ہر مخلوق خدا تعالیٰ کی ازلی ابدی صفات کا اثر قبول کر رہی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ایک میں جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں ان پر انسانی علم احاطہ نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خشخاش کے دانے کی مثال دی ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ اگر ساری دنیا کے سائنسدان اکٹھے ہوکر خشخاش کے دانے پر تحقیق کرتے چلے جائیں تو کسی جگہ وہ اس مقام پر نہیں پہنچیں گے کہ وہ یہ کہیں کہ خشخاش کے دانے کی تمام خصوصیتوں پر ہماری تحقیق اور تجربے اور فہم نے احاطہ کر لیا ہے۔یہ کوئی فلسفہ یاد قیق بات نہیں ہے بلکہ جب ہم دنیا کی تاریخ پر ، انسان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت بڑی واضح ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہے کیونکہ جب سے انسان نے علم کے میدان میں تحقیق کے گھوڑے دوڑانے شروع کئے ہیں اس وقت سے انسان آگے ہی آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔مجموعی طور پر بھی انسان یہ نہیں کہ سکتا اور نہ ان میں سے کسی عظمند نے دعوی کیا کہ ہم نے اپنے علم اور اپنے تجربہ اور اپنے مشاہدہ اور اپنے فہم سے خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا احاطہ کر لیا ہے۔نہ کوئی یہ کہہ سکا ہے اور نہ کہ سکتا ہے کیونکہ جس دن انسان اس غلط مقام پر کھڑا ہوا اس نے اپنے اوپر علم کے دروازے بند کر لئے۔جب سب کچھ اسے مل گیا تو آئندہ کچھ ملنے کی امید باقی نہیں رہی حالانکہ اجتماعی لحاظ سے انسانی زندگی اسی امید پر قائم ہے کہ اس کا علم ترقی کرے گا۔آج سے سوسال پہلے اگر کوئی یہ بات کہتا کہ بعض ایٹموں میں اس قدر طاقت ہے کہ وہ سینکڑوں میل کے علاقوں سے زندگی کو تباہ کر سکتے ہیں یا انسان کی خدمت بہت بڑے پیمانے پر کر سکتے ہیں تو لوگ ہنستے اور کہتے کہ یہ پاگل ہو گیا ہے لیکن یہ پاگل کہنے والے وہ لوگ ہوتے جو یہ سمجھتے کہ ایٹم کے متعلق ہماری تحقیق اور ہمارا علم اور ہمارا مشاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ان پاگل کہنے والوں کے باوجود انسانی دماغ نے علم کے میدان میں اپنی کوشش اور اپنی جہد و جہد کو قائم رکھا اور ایٹم کے اندر جو طاقت چھپی ہوئی تھی اس کو باہر نکالا۔انسان نے اس کو صحیح یا غلط استعمال کیا! یہ اس وقت میرے