خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 493

خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۳ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء ہے۔سو جاننا چاہیے کہ یہ تو حید نہیں ہے کہ بعض لوگ خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانے کا اعلان بھی کرتے ہیں اور قبروں پر سجدہ کرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔یہ توحید نہیں ہے یہ توحید کا چھلکا ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ خدائے واحد و یگانہ پر جو تمام قدرتوں کا مالک ہے اور جس کے حکم کے بغیر درخت کا ایک پتہ بھی زمین پر نہیں گرتا اُس پر ایمان بھی لاتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ ان کی کوششیں اپنے طور پر ثمر آور ہو جائیں گی۔گویا انہیں خدا تعالیٰ کی مہربانی ، اس کی رحمت اور اس کے فضل کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تو حید کا اقرار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی کامل معرفت انسان پر کامل فنا طاری کر دیتی ہے۔پس اے عزیز بچو! اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت تمہیں یہ بتاتی ہے اور خدا کا یہ حکم یاد دلاتی ہے کہ تدبیر کرو۔اپنے وقتوں کو علم سیکھنے میں گزارو۔اس لئے تم اپنے وقت علم سیکھنے میں گزارتے ہو لیکن علم کا حاصل ہونا خدا تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں ہے یہ تو حید ہے۔یہ سمجھ لینا کہ ہم خدا تعالی کی ہر آن رحمت سے یا اس کی نزول رحمت سے بے نیاز ہو کر اپنی عقل سے اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں یہ تو حید نہیں ہے۔توحید یہ ہے کہ انسان یہ کہے کہ میرے رب نے اپنی رحمت سے مجھے عقل دی اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنی رحمت سے عقل کے صحیح استعمال کی مجھے تو فیق عطا فر مائے اور جب مجھے یہ تو فیق عطا ہو جائے تو اس کا جو نتیجہ نکلنا چاہیے وہ اپنے فضل سے خود آسمانوں سے حکم نازل کر کے نکالے۔یہ ہے تو حید جس کا حقیقی اقرار ضروری ہے۔دولت ہے، دنیوی اقتدار ہے۔ہزاروں چیزیں ہیں جو انسان کی راہ میں بت بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ان کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے ادھر اُدھر پھینک دینا اور توحید خالص کی راہ پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جانا یہ ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے شرک سے بچنا اور خدا کے لئے خدا کے حضور سب کچھ پیش کر دینا ہی اسلام ہے۔یہ قربانی بھی اسی طرح ہونی چاہیے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جذباتی لحاظ سے اور ان کے بیٹے نے ہر لحاظ سے سب کچھ قربان کر دیا تھا۔خدا کی رضا کے لئے اپنی گردن جھکا دی تھی اور کہا تھا اگر خدا کا یہ حکم ہے تو مجھے ذبح کر دیں۔چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا تو کوئی بحث نہیں چلی کہ پہلے مذاہب نے تو یہ حکم نہیں دیا یا اخلاقی طور پر اس کی یہ مضرتیں