خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد ششم ۴۷۲ خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۷۶ء دراصل محبت کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ محبت کرنے والا دل محبوب کے پیچھے چلتا ہے۔یہ ایک بنیادی صداقت ہے اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہنے کی یعنی یہ بات کہ انسان کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہوا اور ایک لگن ہو کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی ہے۔اس کا انعام اللہ تعالیٰ کا پیار ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کی جنتیں ہیں لیکن ان جنتوں کا حصول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے نتیجہ میں ملتا ہے ورنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری بھی ہو اور خدا کی رضا بھی حاصل ہو جائے یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ سورج چھپا بھی ہو اور دن کی طرح یہ دنیا روشن بھی ہو۔اندھیرے اور روشنی تو آپس میں متضاد ہیں یہ اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانا اندھیرا ہے ایسا اندھیرا کہ ہماری راتوں کے اندھیرے جب بادل بھی چھائے ہوئے ہوں۔وہ بھی اتنے اندھیرے نہیں جتنے روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانے کے اندھیرے ہیں۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانے کے نتیجہ میں اس قسم کی کالی گھٹائیں ہوں ، رات کے اندھیرے بھی ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے پیار کا نور بھی ہو یہ چیزیں تو اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔پس یہ ایک بنیادی صداقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار حاصل کرنے کے لئے آپ کی سچی اتباع اور متابعت کی ضرورت ہے۔اتباع رسول کے نتیجہ ہی میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے دلوں میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پیار پیدا کیا ہے یہ آپ کا اتنابڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتا لیکن اس پیار کے جو تقاضے ہیں وہ تربیت کو چاہتے ہیں۔پیار پیار میں فرق ہوتا ہے کسی سے تھوڑا پیار ہوتا ہے کسی سے زیادہ البتہ یہ فرق وہ فرق نہیں جو استعداد، استعداد میں فرق کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ فرق تربیت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل پیار آپ کی کامل اتباع کو چاہتا ہے اور آپ کی کامل اتباع قرآن کریم کے تمام احکام کی پیروی کا مطالبہ کرتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے