خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 469
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۹ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء کرتے چلے آرہے ہیں لیکن پچھلے چودہ سو سال میں اسلام میں ترقی اور تنزل، اتار چڑھاؤ تو نظر آتا ہے لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوا کہ جس میں خدا تعالیٰ کے لاکھوں محبوب بندوں نے اسلام کی شمع کو روشن نہیں رکھا۔روشنی کبھی تیز تھی اور کبھی کم۔اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں اور ملک ملک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اسلام کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔یہاں تک کہ پھر مہدی علیہ السلام بدر منیر کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہو کر آگئے اور اب خدا تعالیٰ کے اس بندے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرزند کے ذریعہ سورج (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اخذ کی ہوئی روشنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ سے لی ہوئی روشنی ، ساری دنیا میں پھیلانے کا کام شروع ہو چکا ہے اور یہ ہر شخص کو نظر آرہا ہے عیسائیوں کو بھی اب نظر آ رہا ہے کہ اسلام کی روشنی ان جگہوں پر پہنچ گئی جن کے متعلق ان کو خیال بھی نہیں تھا کہ اسلام کبھی ان کے اندھیروں کو چیرتا ہوا اپنی روشنی کی شعاعوں کے ساتھ ان اندھیروں کے بعض مقامات کو منور کرنا شروع کر دے گا۔بہر حال جَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ میں یہ بھی حکم ہے کہ شیطانی وساوس اور اعتراضات کا مقابلہ بھی اپنی انتہائی کوشش کے ساتھ کرو۔پھر انسان کا اپنا ہی نفس اس کا اپنا ہی شیطان بن جاتا ہے اور اپنا ہی نفس اپنے ہی نفس کو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور دنیا کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور دنیا جو کسی سے وفا نہیں کرتی اس کی خاطر وہ اس کو جس سے بڑھ کر کوئی وفا کرنے والا نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کو وہ چھوڑ دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی ہمیں ہدائتیں دی ہیں جنہیں ایک مسلمان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔غرض خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم میرے قرب کے حصول کے لئے معرفت اور عبادت اور مکارم اخلاق و مکارم شریعت حقہ اسلامیہ کی راہوں کو اختیار کرو گے تو تمہارے لئے قرب کے دروازے کھولے جائیں گے لیکن یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری اس کوشش میں جو تم خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے کر رہے ہو گے تمہارا کوئی مخالف نہیں ہوگا بلکہ اس کوشش میں تمہارا مخالف ظاہری دشمن بھی ہوگا اور چھپا ہوا دشمن بھی ہو گا اور تمہارا اپنا نفس بھی ہوگا ان تین محاذوں پر اگر تم نے اپنی