خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 449
خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۹ خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۷۶ ء لئے وہ محض مَتَاعُ الحیوۃ الدنیا نہیں رہا بلکہ ابدی زندگی کا ہمیشہ رہنے والی زندگی کا سامان ان کے لئے پیدا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انسان کو آسمانی شریعت ملی ، جب آسمان سے ہدایت نازل ہوئی تو اس نے تقاضا کیا کہ اس پر ایمان لاؤ اور جیسا کہ جب وقت ہوتا ہے،موقع آتا ہے اور ایمان کے متعلق بات ہوتی ہے تو ہم ہمیشہ ہی بتاتے ہیں کہ ایمان کے تین پہلو ہیں۔عقیدہ کے لحاظ سے ایمان ، صدق دل کے لحاظ سے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ایمان یعنی عقل اور دل بھی مانتا ہو کہ یہ بات سچی ہے اور عقیدہ بھی اس کے مطابق ہو اور عمل بھی اس کے مطابق ہو۔جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف نوع انسانی کی طرف مبعوث ہوئے تو کامل شریعت آگئی ، اس کامل شریعت نے ہر اس چیز کو جس کے متعلق آیت کے شروع میں کہا گیا تھا کہ وہ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا یعنی محض ورلی زندگی کے سامان ہیں اسے بدل کر اُخروی زندگی کے سامان بنادیا۔انسان شمار نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کو کتنی طاقتیں دیں اور کن کن رنگوں میں اس نے ان کو استعمال کرنا ہے لیکن اگر انسان خدا تعالیٰ کی ہدایت کے نور میں اپنے آپ کو لپیٹ لے تو ہمارا کھانا ، ہمارا پینا، ہمارا پہننا، ہمارا رہنا سہنا ، ہماری ہر حرکت اور ہمارا ہر سکون غرضیکہ ہر قوت اور استعداد کا ہر پہلو اُخروی زندگی کا سامان بن جاتا ہے۔پھر وہ محض ورلی زندگی کا سامان نہیں رہتا لیکن ایمان کے اندر بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔وہ اس طرح پر کہ شیطانی وسوسہ آتا ہے اور انسان میں کئی خامیاں پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً خود نمائی یا اپنے نفس پر تو گل یا اپنی اس حقیری قربانی پر بھروسہ کر لینا ہو جو انسان خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔اس وقت ایمان ایک بگڑا ہوا ایمان ، کرم خوردہ ایمان، بے جان ایمان اور بے روح ایمان بن جاتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ توکل بڑا ضروری ہے محض ایمان کا فی نہیں۔اپنے نفس کے کسی پہلو پر بھی اپنی طاقت کی کسی بڑائی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا بلکہ بھروسہ محض خدا پر اور محض خدا پر کرنا ہے۔اللہ پر جس نے کہ ہمیں یہ سب کچھ دیا اور جس کے فضل کے بغیر ہم ان سامانوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے جس کے فضل کے بغیر ہم صیح نتائج نہیں نکال سکتے