خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 448
خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۸ خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۷۶ء ہوں اس کا فائدہ کچھ نہیں مَتَاعُ الْحَیٰوۃ الدنیا اس سے تو اس ورلی زندگی کا سامان ہی ملے گا اور جو اصل غرص ہے وہ پوری نہیں ہوگی۔اس آیت کے شروع میں ایک بنیادی حقیقت بیان کی گئی ہے جو کہ اس کائنات کی بنیاد ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ ورلی زندگی کا سامان ہے لیکن اس بنیادی حقیقت کے بیان کے بعد اس سے بھی اہم اور سچی حقیقت بیان ہوئی ہے فرمایا۔وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ ابْقَى لِلَّذِيْنَ امَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور سامان بھی پیدا کیا ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔وہ ہر کس و ناکس کے لئے موجود نہیں رہتا بلکہ جس پر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور جس کو وہ اپنی رحمت سے نوازے ان کے لئے ملائکہ یہ سامان لے کر آتے ہیں اور جن پر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے وہ اس ورلی زندگی کے مادی سامانوں کی کا یا پلٹ کر ان کی ہیئت کذائی بدل کر انہیں ایک نہایت ہی بدلی ہوئی چیز بنا دیتے ہیں جس کا تعلق صرف حیات دنیا سے نہیں بلکہ حیات ابدی کے ساتھ بھی ہے۔ایمان کے لفظ میں یہ اشارہ کیا کہ آسمان سے ہدایت نازل ہو گی تبھی تو اس پر ایمان لانا ہے۔انسانی تاریخ میں ہمیں ایمان ایمان میں فرق نظر آتا ہے۔پہلے انبیاء پر جو شریعتیں نازل ہوئیں ان پر ایمان لا کر اس وقت کے متاعُ الحيوةِ الدُّنْيَا کو روحانی، اخلاقی اور اگلی زندگی کے سامانوں میں تبدیل کرنے کے لئے مواد تھا لیکن وہ اس پائے کا نہیں تھا۔پھر انسانی ذہن آہستہ آہستہ ارتقائی مدارج طے کر کے آخر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ تک پہنچ کر کامل شریعت کا حامل ہوا اور ایک کامل اور مکمل شریعت کو اس وقت کے انسان نے اور بعد میں آنے والی نسلوں نے حاصل کیا اور پھر اتمام نعمت ہو گیا۔اس سے قبل پہلے انبیاء کے ذریعہ سے نعمت تو ملی تھی مگر ا تمام نعمت نہیں تھا۔اتمام نعمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔آپ کی لائی ہوئی شریعت نے فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ کے مطابق جو کچھ بھی انسان کو ملا تھا جو کہ محض مَتَاعُ الحیوۃ الدنیا تھا اس کی ہر چیز اور ہر شے کے ہر پہلو کو بدل کر اسے اخروی زندگی کے سامان میں تبدیل کر دیا۔پھر ایک سچے اور حقیقی مسلمان کے