خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 447
خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۷ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء آؤٹ آف پرنٹ ہوئے بھی ایک زمانہ گزر گیا ہے۔اس کا ملنا تو بڑا مشکل ہے۔میں نے دل میں کہا کہ تمہاری ضرورت اس نے پوری کر دی ہو گی لیکن میری ضرورت تو اس نے پوری نہیں کی۔جب اسلام کا دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ اور مقابلہ کیا جائے تو یہ بڑی کارآمد کتاب ہے۔میں نے ان سے کہا کہ اشتہار دو جہاں سے بھی ہو مجھے یہ کتاب منگوا کے دو۔مجھے تو اس کے حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔خیر! ان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اشتہار دے کر جہاں سے بھی ملے مجھے سیکنڈ ہینڈ کتاب ڈھونڈ کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے ڈھونڈ دی۔میں نے وہ بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے اور بعض لوگوں کو میں اس کے بعض حصے پڑھا تا رہتا ہوں۔اس وقت بڑی محنت کر کے مَتَاعُ الْحَيوةِ الدُّنْیا کی خاطر وہ کتاب لکھی گئی یعنی وہ کتاب محض سیاسی غرض کے حصول کے لئے لکھی گئی تھی لیکن جب اسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والی آسمانی برکات کا سوال پیدا ہوا اور دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ کا سوال پیدا ہوا تو اس غرض کے لئے وہ آج ہمارے کام کی کتاب ہے۔جیسا کہ بدصورت چہرہ خوبصورت کے حسن کو اُجاگر کرتا ہے۔پس آسمانی برکات کا یہ پہلو کہ اسلام کے مقابلے میں جو چیز ہے جو آسمانی برکات سے محروم ہے وہ حسین نہیں ، وہ خوبرو نہیں، وہ خوبصورت نہیں ، وہ مفید نہیں ، وہ محسن نہیں۔اس مقابلہ اور موازنہ کے لئے وہ بڑی مفید کتاب ہے۔آسمانی ہدایت کو روشن کر کے اور اس کے حسن کو ظاہر کر کے بعض مضامین لکھنے کے لئے اس کتاب کی ضرورت تھی اور اس طرح طفیلی طور پر اس کی بقا کا سامان موجود تھا۔روحانی قوتوں اور استعدادوں کا اگر چہ مَتَاعُ الْحَیوۃ الثانیا کے ساتھ تعلق نہیں ہے لیکن تعلق ہے بھی جب کہ روحانیت بگڑ جائے مثلاً بہتوں نے مذہب کو روزی کمانے کا ذریعہ بنالیا۔قرآن کریم نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ تم نے اسلامی ہدایت کے انکار کو اپنے پیٹ پالنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔پس جب روحانیت محض نام کی ہو اور آسمانی برکات اس میں شامل نہ ہوں تو وہ روحانی استعداد یں بھی متاع الحیوۃ الدنیا بن جاتی ہیں۔پس قرآن کریم کی صداقت بالکل ظاہر ہے کہ فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَی ءٍ تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے خواہ وہ روحانی استعداد میں ہی کیوں نہ