خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 441

خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۱ خطبہ جمعہ ۱٫۳۰ پریل ۱۹۷۶ء مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں کہ اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو سمجھا اور آپ کی آواز پر اور آپ کی تعلیم اور اس کی اشاعت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔انہوں نے اسلام کی خاطر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اور قرآن کریم کی خاطر قربانیاں دی تھیں کسی اور شخص کے لئے تو قربانیاں نہیں دی تھیں۔پھر اُمت مسلمہ میں اولیاء آتے رہے انہوں نے اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھا، اسلام کے تنزل کے زمانہ میں بھی اسلام کی روشنی کے سامان پیدا کئے۔دیئے کی مانند سہی یا ستاروں کی روشنی کی طرح سہی مگر روشنی تو تھی پورا اندھیرا تو نہیں آیا تھا۔پھر وہ ا مہدی آ گیا جو بدر منیر بن کر دنیا میں چمکا۔اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو پورے طور پر اپنے اندر جذب کیا چنانچہ شیعوں کی ایک کتاب میں ایک پرانے بزرگ کا یہ قول ہے کہ چونکہ مہدی معہود، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل عکس ہو گا اس لئے اس کے مقابلہ میں اور کسی کو پیش نہیں کیا جا سکتا ( میں اُن کے الفاظ نہیں بتا رہا صرف مطلب بیان کر رہا ہوں ) اب اس روشنی پر، اس بدرمنیر پر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند پر ہم ایمان لائے ہیں جس نے اسلام کے لئے اندھیری راتوں کو پھر روشن کرنا شروع کر دیا ہے۔اُس نے ساری دنیا کو نور اسلام سے روشن کرنے کا زبردست بیڑا اٹھا رکھا ہے۔اگر کوئی شخص آج یہ کہتا ہے کہ میں سورج پر ایمان نہیں لاتا مگر اس چاند کو مانتا ہوں تو اس سے زیادہ بے وقوف کوئی اور شخص نہیں ہے۔اگر وہ سورج پر ایمان نہیں لاتا تو چاند کو پھر روشنی کہاں سے ملی ، قصہ ختم ہوا۔پس جماعتِ احمدیہ کے بڑے بھی اور چھوٹے بھی ، مرد بھی اور عورتیں بھی سن لیں کہ اگر اُنہوں نے احمدیت میں رہنا ہے اور بیعت خلافت میں رہنا ہے تو انہیں اسلام اور اس کے غلبہ کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دینی پڑیں گی۔اسلام کے چھوڑنے کے بعد، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ موڑ لینے کے بعد احمدیت کے اندر اُن کے لئے کوئی جگہ نہیں نہ آج ہے اور نہ کل ہوگی۔کبھی نہیں ہو گی قیامت تک نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو شیطانی وسوسوں اور حملوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ نے جس پیار سے احباب جماعت احمدیہ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں کیا ہے خدا کرے ہم میں سے ہر ایک اس پیار کا وارث اور مستحق اور