خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 408 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 408

خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۸ خطبہ جمعہ ۱۶ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ ء کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں، ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے۔“ اس آیت کریمہ میں بہت سی باتوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی ہے ایک یہ کہ قرآن کریم قیامت تک کے لئے ہدایت نامہ ہے اور ہم لوگ جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایک آیت بھی یا کوئی ایک لفظ بھی یا کوئی ایک حرف بھی یا کوئی ایک زیر اور زبر بھی منسوخ نہیں ہو سکتی۔جماعت احمدیہ کا یہ مذہب اور عقیدہ ہے کہ جس رنگ میں قرآن کریم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اُسی شکل میں بغیر کسی رد و بدل کے یہ ہم تک پہنچا ہے اور اپنی اسی اصلی اور حقیقی شکل میں قیامت تک قائم رہے گا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ لفظ ” قال “ کا مخاطب کون ہے؟ سو یا د رکھنا چاہیے کہ اس کے پہلے مخاطب تو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن چونکہ یہ قیامت تک کے لئے ایک ہدایت ہے اس واسطے یہ حکم صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کے وصال کے بعد اس آیت کو یا اس حکم کو جو قل میں آیا ہے لوگ اسے منسوخ سمجھتے۔دراصل اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر متبع کو کہا گیا ہے کہ وہ بیان شدہ مضمون کے مطابق اہل کتاب کو دعوت دے۔پس جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ فرض تھا کہ آپ اس آیت کی روشنی میں اہلِ کتاب کو دعوت دیتے اور جیسے آپ اپنی زندگی میں احسن طور پر بجالائے اسی طرح ہر سچے مسلمان کا جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا اور قرآن کریم کو ہمیشہ کے لئے ہدایت اور شریعت سمجھتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حکم کے ماتحت اہلِ کتاب کو اسلام کی طرف اس رنگ میں دعوت دے جس رنگ میں کہ یہاں مضمون بیان ہوا ہے۔دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس چھوٹے سے اقتباس میں جو اشارے ہیں میں انہی کی وضاحت کروں گا ) قرآن کریم نے توحید باری تعالیٰ کے بارہ میں زبردست دلائل بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ تمام مذاہب توحید