خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 399
خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۹ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۷۶ء ہم نے مہدی علیہ السلام کو شناخت کیا اور ہم مہدی علیہ السلام پر ایمان لائے۔حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس اسلامی تعلیم کی الہاما بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔آپ کو الہام ہوا انتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِى لَا يُضَاعُ وَقْتُه کہ تو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔پس جماعت احمدیہ پر بڑی ذمہ داری ہے اور ہم یاد دہانیاں بھی کراتے ہیں کہ معمور الا وقات بنو۔وقت کے ہر حصے کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کوئی نہ کوئی حکم وابستہ ہے اس کو بجالا ؤ تو وقت معمور ہو جائے گا۔بھر پور زندگی گزارو۔خشک زندگی ست زندگی کا ہل زندگی اور بے خیر زندگی گزارنے کی تو ہمیں خدا نے تعلیم نہیں دی۔پس ہم بہت کچھ سوچتے ہیں، دوستوں کو نصیحتیں کرتے ہیں اور دوستوں کو کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو نصیحتیں کیا کرو۔ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ ایک منصوبہ یہ ہے کہ میں نے تحریک کی تھی کہ دوست وقف عارضی میں پندرہ دن کا وقف کر کے دوسری جگہوں پر جائیں۔اس میں بڑی برکت ہے جو دوست اس منصوبہ کے تحت گئے مجھے سینکڑوں کی تعداد میں ان کے خط ملے جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ انہوں نے بھی فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ باہر جانے سے پہلے انسان زیادہ متوجہ ہو جاتا ہے کہ میں دوسری جگہ جا رہا ہوں لوگ مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی کتب کے متعلق سوال کریں گے پھر وہ پڑھتا ہے اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑھنے پر زیادہ وقت دیتا ہے اور زیادہ غور اور زیادہ توجہ سے پڑھتا ہے، سوچتا ہے، دعائیں کرتا ہے۔بہتوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار سے نوازا اور ان کو سچی خوا ہیں دکھا ئیں اور ان کے کاموں میں برکت ڈالی اور وہ بڑے خوش ہو کر اور روحانی سرور حاصل کرنے کے بعد واپس لوٹے۔نیز جہاں وہ گئے ان کو یہ خیال ہوتا تھا کہ باہر سے آئے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہم بھول جاتے تھے اور جن کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے مقامی دوست سوچتے ہیں باہر سے آنے والے بھائیوں کے سامنے تو اس سستی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے اپنا محاسبہ کرنا شروع کیا۔ایک دوسرے سے باتیں کیں، ایک دوسرے سے واقفیت حاصل کی ، ایک دوسرے سے پیار کرنا سیکھا۔برادری اور اخوت اور بھائی چارے کا ماحول پیدا ہوا اور آپس میں باتیں کرنے کے بعد انہوں نے روحانی طور پر زیادہ تیزی