خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 398 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 398

خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۸ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۷۶ء قمیص کا بٹن ٹوٹ گیا ہے تو وہ بٹن لگا کر دیں گے۔نہ اس سے بات کرنے کی ضرورت نہ کپڑے سینے کی ضرورت اور نہ جرا میں رفو کرنے کی ضرورت ، اتنا وقت بچ گیا۔وہاں یہ حال ہے کہ عام طور پر طالب علم شام کی چائے اپنے کامن روم میں پیتے ہیں (ان کو چائے پینے کی عادت ہے ) یا اگر کوئی دوست مل جائے تو وہ کسی ریسٹورنٹ میں چلے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ اپنے کمرے میں بھی دوست بلا لیتے ہیں۔دو تین دوست بلائے تو ہر دو چار کمروں کا جو نوکر ہوتا ہے اس کو کہنا پڑتا ہے کہ مجھے چائے چاہیے۔آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہاں وقت کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے اس کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ چائے مجھے سوا چار بجے چاہیے یا ساڑھے چار بجے چاہیے یعنی پندرہ منٹ کے فرق کا بھی خیال رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وقت بڑا قیمتی ہے یہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔اگر آپ نے کہا ہے سوا چار بجے چاہیے تو وہ چار بج کر دس منٹ پر چائے اور ساری چیزیں آکر لگا دے گا اور اگر آپ نے کہا ہے ساڑھے چار بجے چاہیے تو وہ چار بجکر پچیس منٹ پر لے آئے گا۔یہاں کی طرح نہیں ہے کہ جیسا ایک پنجابی کا لطیفہ مشہور ہے وہ لمبا ہے میں اس کا ایک حصہ بتا دیتا ہوں۔ایک شخص لکھنؤ وغیرہ کی طرف سے اپنے دوست کومل کر آیا تو اس کا نوکر بڑا اچھا تھا۔اس نے بڑے وقت کے اوپر ہر کام کیا۔اس نے کہا کہ مجھے بھی اپنے نوکر کی اہلیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔چنانچہ جب اس کا دوست آیا تو اس نے کہا کہ جا دوست آیا ہے اس کے لئے لسی لے کر آ۔تو جس طرح اس کے دوست نے کہا تھا اسی طرح اس نے بھی دو چار منٹ گزرنے کے بعد کہا کہ نوکر دوکان پر پہنچ گیا ہو گا۔پھر دو چار منٹ گزرے تو اس نے کہا کہ اب لسی بنا کر دوکان سے واپس چل پڑا ہوگا۔پھر چند منٹ گزرے تو کہنے لگا کہ اب پہنچ گیا ہو گا پھر اس کو آواز دی کہ او نتھو خیرے ( جو بھی اس کا نام تھا ) لسی لے آیا ایں۔وہ کہنے لگا جی میں تے بجتی ڈھونڈ ریاں جان واسطے۔اس کو احساس ہی کوئی نہیں۔پس ہمارا جو ماحول ہے ہمارا وقت ضائع کرتا ہے لیکن اسلام نے تو وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس کے نتیجہ میں یہ اعلان کہ ہمارا سب کچھ خدا کے لئے ہے یہ غلط بن جاتا ہے۔جو وقت ضائع ہو گیا وہ خدا کے لئے تو ضائع نہیں ہوا خدا تو اسے ضائع کرنا نہیں چاہتا۔