خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۳ خطبہ جمعہ ۱۷۹ پریل ۱۹۷۶ ء قانون شکنی یا قانون کو ہاتھ میں لینے کا تصور بھی ہمارے دل میں نہیں آنا چاہیے خطبه جمعه فرموده ۹ را پریل ۱۹۷۶ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کا حصہ پڑھا:۔فَإِنْ حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَن ـ (ال عمران : ۲۱) اس کے بعد فرمایا:۔سورۃ آل عمران کی اس آیت سے قبل جو آیت ہے اس کو اس طرح شروع کیا گیا ہے کہ ان الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران :۲۰) کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اصل دین اس کی کامل فرمانبرداری ہے اور آیت کا جو حصہ میں نے پڑھا ہے اس کے شروع میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ دین کے معاملہ میں جھگڑا کریں تو انہیں اپنے عملی نمونہ سے بتاؤ کہ تمہارا دین کیا ہے ( أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ ) تم اپنا سارا وجود خدا کے لئے سونپ دو اور اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو اور جس طرح ہمارا اللہ رب العالمین ہے اے اس کے مانے والو ! تم خادم العالمین بن جاؤ۔یہاں ایک بڑا لطیف نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک تو علمی بحثیں ہوتی ہیں لیکن دین کے معاملہ میں علمی بحثوں کے علاوہ اور ان سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے عملی نمونہ سے اپنے مقام پر قائم ہو۔اللہ تعالیٰ نے دین کی روح اور اس کی اصل اور اس کی بنیاد یہ بتائی ہے کہ انسان اللہ کے