خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 368 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 368

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۸ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء مقام پر پہنچ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ کا نیک بندہ اپنے دائرہ استعداد میں خدا تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور اسے پا بھی لیتا ہے۔یہ تو درست ہے لیکن ہر انسان کا استعداد کا دائرہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوع انسانی میں سب سے زیادہ اور عظیم استعدادوں کے حامل بنا کر پیدا کئے گئے تھے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام سے ہمیں پتہ لگتا ہے نہ آپ سے پہلے کسی ماں نے اتنی عظیم استعدادوں اور طاقتوں اور صلاحیتوں والا بچہ پیدا کیا اور نہ آئندہ پیدا کرے گی۔اسی وجہ سے قرآن عظیم جیسی کتاب آپ پر نازل ہوئی اور رحمتہ للعالمین کی حیثیت سے آپ دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے۔یہ آپ ہی کی استعداد تھی اور اتنی عظیم استعداد کے مالک نے ہمیں یہ بھی کہا کہ دین العجائز اختیار کیا کرو کیونکہ ایک گروہ ایسا ہے جو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔پس زیادہ گہرائیوں میں نہ جایا کرو جو تمہیں حکم ہے وہ کرو اور تمہاری استطاعت کے مطابق یعنی جتنی تم میں ثواب حاصل کرنے کی طاقت اور قوت ہے اس کے مطابق تمہیں تو اب مل جائے گا ورنہ اگر تم اپنی طاقت سے آگے جاؤ گے تو شیطان کے لئے رستے کھل جائیں گے جیسا کہ اگر ایک شخص کے معدے کو اللہ تعالیٰ نے دو چھٹانک آٹا ہضم کرنے کی طاقت دی ہے اور وہ ایک سیر کھا لیتا ہے تو بد ہضمی ہو جائے گی اور اگر کسی کے معدے کو آدھ سیر آٹا کھانے کی طاقت ہے جیسا کہ عام طور پر ہمارے زمینداروں کے معدوں کو یہ طاقت ہے تو اگر وہ دو چھٹانک کھائیں گے تو وہ کمزور ہو جائیں گے اگر وہ دوسیر کھالیں گے تو وہ بھی خرابی پیدا کرے گا اور بدہضمی ہو جائے گی۔اسی طرح انسان کی ظاہری زندگی میں ہم ہزاروں مثالیں ایسی دے سکتے ہیں کہ انسان استعداد سے نہ ادھر ہوسکتا ہے نہ اُدھر ہوسکتا ہے لیکن استعداد کے اندر اس کو آزادی ہے مثلاً اس کو یہ آزادی ہے کہ اس نے اپنی ذات کے متعلق غور کر کے محاسبہ نفس کر کے اپنی طبیعت اور فطرت اور عادات اور اپنے جسم کے مختلف حصوں کی طاقت کو مد نظر رکھ کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو پروگرام بنایا ہے اس پر عمل کرے اور اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے اس کو یہ آزادی حاصل ہے اور اسی کو ہم تقدیر کہتے ہیں یعنی انسان کو صاحب اختیار بنانا اور اس کو آزادی دینا یہ الہی تقدیر ہے۔اس نے یہ چاہا کہ ایسا ہو فَقَدرَةُ تَقْدِيرًا اگر اللہ