خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 367 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 367

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۷ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء کمرے کا دروازہ بند نہ کرے اس کو یہ اختیار حاصل ہے لیکن جب وہ دروازہ بند کرتا ہے تو اس کے اس فعل پر کہ اس نے سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور وہاں کوئی شیشہ بھی نہیں لگا ہوا اللہ تعالیٰ ایک اثر پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں پر اندھیرا کر دیتا ہے۔یہ انسان کا فعل ہے کہ اس نے دروازے کھڑکیاں بند کر دیں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ اثر پیدا کیا کہ وہاں پر اندھیرا کر دیا۔اسی طرح اندھیرے کمرے میں کھڑکیاں دروازے کھولنے کا عمل انسان کا ہے اور اس کے بعد جو روشنی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہوتی ہے۔پس انسان اپنے دائرہ میں صاحب اختیار ہے اور انسان کا یہ اختیار اور انسان کی یہ آزادی قضا و قدر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا اور یہ اندازہ قائم کیا اور مقر ر کیا ہے کہ اس حد تک نوع انسانی اپنے دائرہ میں آزا در ہے گی اور نوع انسانی کا ہر فرد اپنے اپنے دائرہ استعداد میں آزاد رہے گا۔ہر انسان کا دائرہ استعداد مختلف ہے مثلاً ہر انسان علم کے حصول میں ایک جیسی ترقی نہیں کر سکتا۔لَيْسَ لِلإِنسَانِ اِلَّا ما سعی کا اصول تو یہ ہے کہ اجر کے حصول کے لئے تمہارا عمل ضروری ہے اگر تم عمل نہیں کرو گے تو تمہیں اجر نہیں ملے گا۔اس میں جبر کہاں سے ہوا؟ بالکل پوری طرح آزادی کا اعلان کر دیا ہے لیکن ہر شخص دوسرے شخص جیسا اور اتنی عقل والاعمل نہیں کرسکتا۔ہر ایک کا اپنا ایک دائرہ استعداد ہے جو بڑے بڑے موجد ہیں ان کی استعداد اور ہے مثلاً جس نے ایٹم کی طاقت کا علم حاصل کیا ( گواب اسے غلط طرف لے گئے ہیں ) اس شخص کو خدا تعالیٰ نے اتنی ذہنی طاقت دی تھی کہ وہ اس میدان میں یہ چیز ایجاد کر لیتا یہ ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن یہ طاقت اور قوت اس کو خدا تعالیٰ نے دی تھی۔پس تقدیر کو جس معنی میں قرآن کریم استعمال کرتا ہے اس میں موٹی بات یہ ہے کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَرَة تَقْدِيرًا میں تقدیر کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے اور یہ تقدیر خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کو ضائع نہیں کرتی کیونکہ وہ خود اسی نے دی ہیں۔البتہ ان قوتوں کی تعیین اور حد بندی اور اندازہ کر کے ان کو ایک دائرہ استعداد کے اندر رکھ دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس دائرے کے اندر انسان کو اختیار ہے۔ہر انسان ولایت کے اعلیٰ