خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 365

خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء صحت مل جائے یا ہم اس اصول کو توڑیں اور بیمار ہو جائیں۔اِذَا مَرِضْتُ (الشعر آء :۸۱) میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان خود بیمار ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی شفا کے لئے جھکتا ہے لیکن ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم گوشت کھا ئیں اور ہماری خواہش یہ ہو کہ ہمیں نشاستہ مل جائے اور ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم کھائیں پنیر اور یہ سمجھیں کہ ہمارے جسم میٹھے کا فائدہ حاصل کر لیں۔یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔وہاں خدا تعالیٰ نے اپنا قانون چلایا ہے۔پس ایک دائرہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے۔جب انسان کی فطرت کو پیدا کیا گیا تو اس فطرت کے اندر یہ اندازہ تھا اور یہ قضا و قدر تھی کہ اس دائرہ کے اندر انسان کو آزاد رکھا جائے گا۔تو تقدیر میں جبر نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کا خلق کا یہ جلوہ کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی خُو اور فطرت کا ایک اندازہ کیا یہ اس کی تقدیر ہے اور یہ اس کا اندازہ ہے۔یہ تقدیر جبر نہیں ثابت کرتی بلکہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں یہ تقدیر انسان کے اختیار کو ثابت کرتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ میں نے ہر چیز کا اپنا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے۔انسانی فطرت کی آزادی اور اس کے جو اختیارات ہیں یہ تقدیر نے اس کو دیئے ہیں اپنی طرف سے وہ انہیں حاصل نہیں کر سکتا تھا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کا ئنات میں ایک حکم جاری کرے اور انسان کہے کہ نہیں میں ایک دوسرا حکم جاری کروں گا۔انسان خدا تعالیٰ سے لڑنے کی قدرت نہیں رکھتا لیکن بعض دفعہ انسان اپنی حماقت یا جہالت کے نتیجہ میں یا اس کے اندر شیطانی خو جوش مارتی ہے اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے لڑ پڑتا ہے لیکن اس کا اثر وہ نہیں نکلتا جو وہ چاہتا ہے کہ نکلے۔پس انسان کو آزا درکھنا اور اس کو اختیار دینا خدا تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے اور اس نظام قدرت میں جو قوانین قدرت چل رہے ہیں ان میں قضا وقد رکو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے اسباب کے ساتھ وابستہ کر دیا اور باندھ دیا ہے۔خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَرَة تَقْدِيرًا کی یہ تفسیر جو میں بتا رہا ہوں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر قرآنی کے متعلق ہمیں بہت سے اصول بتائے ہیں ان کی تفصیل میں تو میں نہیں جاؤں گا وہ علیحدہ مضمون ہے۔ایک بات آپ نے