خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۱ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء ہے جس کے لئے اس نے کوئی کوشش نہیں کی ، کوئی جد و جہد نہیں کی تو خدا کا بندہ تڑپ اُٹھتا ہے خدا تعالیٰ کے اس پیار کو دیکھ کر اور پھر وہ صدق وصفا اور ثبات کے نتیجہ میں اور زیادہ ایثار دکھاتا ہے خدا کی راہ میں۔وہ سمجھتا ہے اتنی عظیم ہستی رحمانیت کا پیار میرے اوپر نازل کر رہی ہے۔پھر وہ خدا تعالیٰ کے لئے ثبات قدم دکھاتا ہے اس کے عمل میں صدق ہوتا ہے ایثار ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرتا ہے وہ اور زیادہ کوشش کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو اور زیادہ حاصل کرے۔یہ دوسرا عمل روحانی طور پر آیا تب خدا تعالیٰ اس کے صدق اور ثبات کو دیکھ کر اور اس کے جذبہ کو دیکھ کر اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب یہ جذبے دوطرفہ ہو جاتے ہیں تو انسان روحانی طور پر کمال حاصل کر لیتا ہے۔باقی رہا کمال تو اس کے بھی ہزاروں درجات ہوتے ہیں۔مجموعی طور پر ہم سب کو ہی کامل کہہ دیتے ہیں ورنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اکمل وجود کے مقابلے میں تو کوئی کامل نہیں لیکن انبیاء کا اپنا مقام ہے دوسروں کا اپنا مقام ہے۔ایک خاص گروہ کو ہم روحانی طور پر کامل کہتے ہیں اس معنی میں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا جلوہ دیکھا اور اس کے پیار کو پا یا بغیر اپنی کسی کوشش کے اور پھر اُن کی روح تڑپ اٹھی اور انہوں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دی اور ہر قسم کی تکالیف اٹھانے کے لئے تیار ہو گئے اور ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا وہ پیار جو پہلے رحمانیت کے نتیجہ میں ان کو ملا تھا 60 اب خدا تعالیٰ کے قرب کے نتیجہ میں اور زیادہ ملنے لگ گیا۔جس وقت ایسا بندہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو وہ اس دعا کا اثر دیکھ لیتا ہے اس قرب کے نتیجہ میں ( میں ذرا وضاحت کے لئے آسان الفاظ استعمال کروں گا کہ خدا تعالیٰ پھر اس بندے کی خاطر وہ مسببات پیدا کرتا ہے جن کے نتیجہ میں اس مسبب اور سبب کی دنیا میں وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کو وہ مانگتا ہے مثلاً باہر دھوپ ہے۔میں اس وقت دھوپ میں باہر سے آیا ہوں۔ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا لیکن اگر خدا تعالیٰ کا بندہ بارش کے لئے دعا کرے تو یہ تو نہیں ہوتا کہ اسی طرح دھوپ میں سے بارش کے قطرے ٹپکنے لگ جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس جگہ ایسے طبعی سامان پیدا کرتا ہے یعنی ان مسببات کے نتیجہ میں بارش ہو جاتی ہے جو قانون قدرت میں آثار صفات کے نظام پر مشتمل ہیں۔اگر خدا تعالیٰ