خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۰ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء جلوے ہیں۔انسان کی اب تک کی پیدائش میں بھی خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے بے شمار جلوے نظر آتے ہیں۔ہر فرد واحد کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک جلوہ ہے۔یہ دنیا اسباب اور مسببات کی دنیا ہے۔خدا تعالیٰ نے قضا و قدر کو مسببات اور اسباب کے ساتھ باندھ دیا ہے۔نظام قدرت میں مادی چیزیں بڑی واضح ہیں کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ جی اگر تقدیر ہوئی تو بیمار بچ جائے گا اور اگر مقدر میں صحت نہ ہوئی تو مر جائے گا آرام سے بیٹھے رہو بلکہ لوگ بیماروں کا علاج کرانے کے لئے پاگلوں کی طرح پھرتے ہیں۔اس کی بے شمار مثالیں ہیں کہ جو لوگ دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ سارے قضا و قدر کے ماتحت ہی لگے ہوئے ہیں یعنی اسباب کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔زبان سے مانیں نہ مانیں مگر ان کا سارا طریق کار بتا رہا ہے کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہی قضا و قدر ہے۔قرآن کریم نے کہا۔لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَه سَوْفَ يُراى (النجم :۴۱،۴۰) تم جتنی کوشش کرو گے اتنا پالو گے۔جس طرح جسمانی دنیا میں قضا و قدر کو اسباب اور مسببات کے ساتھ باندھ لیا ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی قضا و قدر کو اسباب اور مسببات کے ساتھ باندھا گیا ہے یا قضا و قدر کے ساتھ ان کو باندھا گیا ہے۔جو کام دعا کرتی ہے اور جو ہمیں سمجھ آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اصل تو آثار الصفات ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں میں سے بہت سی یا ایک صفت کا جلوہ ہے۔اس واسطے میں نے اس سلسلہ میں پچھلے خطبہ جمعہ میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ علت العلل ہے اور اس کا ئنات کی حقیقت تا کہ انسان تو حید پر قائم رہ سکے۔پس اس تمہید کے بعد دعا کا فلسفہ اور حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندوں میں ایک قوت جذب رکھی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے روحانی طور پر آثار الصفات کے نتیجہ میں یہ چیز پیدا ہوئی کہ خدا اور بندے میں ایک قوت جذب ہے اور وہ اس طرح کام کرتی ہے کہ کسی سعید روح کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت جوش میں آتی ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی کشش اور اس کا جذب اس سعید بندہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت بغیر عمل عامل کے جوش میں آتی ہے اور جس وقت انسان کی وہ سعید روح خدا تعالیٰ کے اس پیار کو دیکھتی