خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 339

خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۱۳ فروری ۱۹۷۶ء زندگی ہے اس میں بھی ایک تدریج ہے گھوڑی کے حمل کا اپنا زمانہ ہے جو کہ دوسری قسم کی مادہ سے مختلف ہے، پھر بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ جوان ہوتا ہے پھر بوڑھا ہوتا ہے اور عام طور پر عرب گھوڑوں کے علاوہ جو دوسری نسلیں ہیں ان کی عمریں ۲۲ ، ۲۳ سال سے زیادہ نہیں ہوتیں اس کے مقابلہ میں ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ انسان کی اوسط عمر بحیثیت انسان گھوڑے کی عمر سے ۳ گنا زیادہ ہے۔واللہ اعلم۔صحیح اندازے تو اللہ تعالیٰ کو ہی پتہ ہے نیز ڈاکٹر کہتے ہیں کہ گھوڑے کی اوسط عمر کتے کی عمر سے ۳ گنا زیادہ ہے وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے اندازے پیدا کئے ہیں۔یہ نہیں کہ کتا یہ کہے کہ میں دوسو سال زندہ رہوں۔یہ تقدیر الہی کے خلاف ہے یعنی اس نے کتے کی زندگی کے جو اندازے مقرر کئے ہیں یہ اس کے خلاف ہے اس لئے یہ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر حالات درست ہوں تو کتا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اندازے اور تقدیر کے مطابق اپنی عام زندگی گزار سکتا ہے۔پس ساری نشو ونما تدریجی ہے اور اندازوں کے مطابق ہے مثلاً اگر آپ دنبے کو صحیح مقدار میں صحیح قسم کا کھانا دیں تو ایک خاص نسل کے دنبے کا وزن ۴۰ سیر یا ۴۵ - ۵۰ سیر ہو جائے گا۔یہ اللہ تعالی کا مقرر کردہ اندازہ ہے کہ اگر اس کو اتنا ملے گا تو اس کا وزن اتنا ہو جائے گا گویا اس کے جسم کی نشوونما کی طاقتوں اور کھانے کی قسموں کو تقدیر نے باندھ دیا ہے اور اگر اتنا نہیں ملے گا تو تقدیر کہتی ہے کہ اس کا وزن ۱۰، ۱۵ سیر سے زیادہ نہیں ہوگا ، ہم نے اپنی زندگیوں میں خود اس کا تجربہ کیا ہے۔پس نقدیر کا اور قضا و قدر کا جو غلط تصور دنیا کے ذہن میں ہے اسلام وہ نہیں پیش کرتا۔اسلام یہ کہتا ہے کہ یہ اسباب کی دنیا ہے اور یہ عمل کی دنیا ہے لیکن وہ لوگ جوصرف اسباب کی طرف ہی متوجہ ہو جاتے ہیں اور انہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں اور شرک کرتے اور اسباب پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں جتنا کہ ان کو اپنے خدا پر کرنا چاہیے وہ غلطی کرتے ہیں۔سارے اسباب اپنی جگہ درست ہیں انسان کی خداداد طاقتیں اور استعدادیں اپنی جگہ درست لیکن خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑنا، اس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔پس ایک مسلمان کو تو حید پر قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآنی شریعت میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے اسوہ میں یہ سبق دیا ہے