خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 335

خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۵ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء ہوائیں چاہتی ہیں جو ان بخارات کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔نہ وہ ہوتا ہے جو وہ اونچے اونچے پہاڑ چاہتے ہیں جہاں جا کر ایسے سامان پیدا ہوتے ہیں کہ یہ بخارات آپس میں مل جاتے ہیں اور نہ وہ سامان کچھ کر سکتے ہیں کہ جن کے نتیجے میں تہہ بہ تہہ کالی گھٹائیں بن جاتی ہیں اور نہ وہ ہوائیں کہ جو ان بادلوں کو جہاں مرضی لے جائیں۔پس ان تمام واسطوں سے انقطاع حاصل کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ نے اسلام میں یہ تقدیر کا مسئلہ، یہ قضا و قدر کا مسئلہ بتایا تا کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے رب سے دور نہ ہو جائے اور محض اسباب کا نہ ہو جائے اور صرف اسباب پر ہی بھروسہ نہ کرنے لگے اور اسباب کو اتنا طاقتور نہ سمجھے کہ وہ جس کو چاہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور جس کو چاہیں محروم رکھیں۔وہ تو سامان ہیں ان سامانوں کا پیدا کرنے والا رب فائدہ پہنچاتا ہے، یہ سامان نہیں فائدہ پہنچاتے۔قرآن کریم نے بہت سی مثالیں دے کر اس چیز کو واضح کیا ہے پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان : ٣) یعنی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور ایک اندازہ مقرر کیا ہے یہ ہے تقدیر۔مثلاً ایک خاص قسم کی گرمی کے اندر اس نے یہ خاصیت رکھی۔یہ اندازہ رکھا کہ وہ بخارات اُڑا لے گی۔پھر سورہ ٹور میں یہ بھی فرمایا ہے کہ بعض دفعہ جن پر خدا تعالیٰ غصے ہوتا ہے ان کی طرف بادل لے جاتا ہے اور وہ بادل کہ جب ان کے بخارات اُٹھ رہے ہوتے ہیں تو ان کے اندر کوئی ٹھوس چیز نظر نہیں آتی۔ان کے اندر سے یا ان کے نتیجہ سے بڑے بڑے حجم والی چیزیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں مثلاً ثژالہ باری ہے۔زمیندار دوست جانتے ہوں گے کہ کچھ عرصہ کے بعد کبھی کسی علاقہ میں اور کبھی کسی علاقہ میں عین اُس وقت ژالہ باری ہو جاتی ہے کہ جب فصلیں تیار ہوتی ہیں۔بعض دفعہ بعض انسان اپنی حماقت سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہماری کھیتیوں کی گندم کی بالیس ہماری بھوک کو دور کریں گی تب خدا تعالیٰ بادلوں کو کہتا ہے کہ وہاں جاؤ اور ان کو بتاؤ کہ ان میں تو کوئی طاقت نہیں ہے۔گندم کے کھیت یا گندم کی بالیں یا ان سے جو گندم حاصل ہوتی ہے وہ بھوک کو دور نہیں کرتیں بلکہ جوان کا پیدا کرنے والا ہے وہ بھوک کو دور کرتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا ایک دفعہ ہمارے