خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 326
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۶ خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۷۶ ء کا بڑی عمر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا اور وہاں اسے کامیابی کے ساتھ لگانا بہت مشکل ہے لیکن مسلمان بادشاہوں نے ہندوستان میں یہ کام بھی کیا اور بڑی کامیابی سے کیا۔وہ بڑے بڑے آموں کے درختوں کا باغ (پھل دینے والا ) ایک سال میں تیار کروا دیتے تھے۔بادشاہ باغات کے انچارج کو حکم دیتا تھا میں مہم پر جا رہا ہوں فلاں جگہ بڑی اچھی ہے اس میں چشمہ ہے سال کے بعد جب میں واپس آؤں تو وہاں آم کا باغ ہو حالانکہ پہلے وہاں کوئی باغ نہیں ہوتا تھا چنانچہ سال کے بعد جب بادشاہ واپس آتا تھا تو وہاں پھلدار درخت لگے ہوتے تھے بہر حال یہ تو بھولی ہوئی چیزیں ہیں آہستہ آہستہ یاد آئیں گی۔ہمیں یہاں بھی پھلدار درخت لگانے کی کوشش کرنی چاہیے مجھے شوق ہے۔میں نے پچھلے سال ایک دوست سے کہا کہ وہ مجھے بڑی عمر کے درخت لا کر دیں انہوں نے شہتوت کے دو بڑے بڑے درخت بھجوائے شاید تین سال کے ہوں گے اور پہلے سال ہی ان کو پھل آ گیا اس سال امید ہے پورا پھل آ جائے گا اس طرح میں نے چیری کے دو درخت منگوائے تھے جن کی عمر اڑھائی اور تین سال کی تھی۔ایک تو راستہ میں خراب ہو گیا ایک شاید چل پڑے لیکن یہ بھی کم ہے چیری کا درخت سرد علاقوں میں مثلاً کوئٹہ میں ہوتا ہے وہیں سے میں نے منگوایا ہے ویسے ایبٹ آباد میں بھی ہوتا ہے اگر چار سال کی چیری کا درخت مل جائے تو وہ انتظار نہیں کروائے گا پہلے سال ہی پھل دینے لگ جائے گا اور اس کو پالنا زیادہ آسان ہے۔تو جس وقت آپ پہلے سال پھل کھائیں گے تو چونکہ ہم سب ایک ہی فضا میں پلے ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں آپ کے منہ سے بھی میری طرح بے شمار دفعہ الْحَمدُ لِلَّهِ نکلے گا کہ خدائی شان ہے اس نے اتنے سامان پیدا کر دیئے کہ پہلے سال ہی درخت نے ہمیں پھل دیدیا اور اس طرح باغات کی وجہ سے گویا اُخروی جنات کے سامان بھی پیدا ہو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے یہ چیزیں تسبیح و تحمید کے سامان پیدا کرتی ہیں اگر انسان کے دل میں ایمان ہو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا پیار کا تعلق ہو تو یہی دنیوی حسنات انسان کو اخروی حسنات یعنی روحانی حسنات کی طرف گھسیٹ کر لے جاتی ہیں۔پس ربوہ والے بھی اور باہر رہنے والے احمدی خصوصاً وہ جو زمیندار ہیں ان کو درخت لگانے کی